Featured Post

عقائد میں احتیاط کے تقاضے

عقائد میں احتیاط کے تقاضے 1 : یا محمد یا رسول اللہ کہنا شرک نہیں 2:  ایک شبہ اور اس کا ازالہ 3: اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری اور دعا ...

Thursday, March 5, 2015

عقائد میں احتیاط کے تقاضے

عقائد میں احتیاط کے تقاضے
1: یا محمد یا رسول اللہ کہنا شرک نہیں
2:  ایک شبہ اور اس کا ازالہ
3: اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری اور دعا کا طریقہ
4: مزاراتِ اولیاء پر دعا کا درست طریقہ
5: مزارات کے طواف اور شور و غل کی ممانعت
6: مزارات پر نذر و نیاز اور تبرک کی حقیقت
7: کلماتِ توسُّل میں احتیاط
8: سجدۂ تعظیمی اور قبر کی سمت سجدہ کرنے کی ممانعت
9: اَعراس سے متعلقہ اُمور میں احتیاط
10: مزارات کے درختوں کے نیچے منتیں ماننا
11:  مختلف درختوں میں ارواحِ شہداء و اولیاء کا تصور کرنا
12: حلف میں احتیاط کا پہلو
13: ایصالِ ثواب اور نذر و نیاز کے طریقوں میں احتیاط



یا محمد کہنا

بعض لوگ جوشِ توحید میں صیغۂ خطاب کے ساتھ آقائے دوجہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام کو استعانت بالغیر کہہ کر شرک قرار دیتے ہیں اوراسے ناجائز سمجھتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارنے سے منع نہیں کیا بلکہ پکارنے کے آداب سکھائے ہیں،
 ارشادِ ربّانی ہے :
لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌO
’’(اے مسلمانو!) تم رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی مثل قرار نہ دو (جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلانا تمہارے باہمی بلاوے کی مثل نہیں تو خود رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی تمہاری مثل کیسے ہو سکتی ہے)، بیشک اللہ ایسے لوگوں کو (خوب) جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ میں (دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) چپکے سے کھسک جاتے ہیں، پس وہ لوگ ڈریں جو رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے امرِ (ادب) کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کہ (دنیا میں ہی) انہیں کوئی آفت آپہنچے گی یا (آخرت میں) ان پر دردناک عذاب آن پڑے گاo‘‘
النور، 24 : 63
اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں ائمہ تفسیر نے حضرت سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارتے وقت ’’یا محمد‘‘ اور ’’یا ابا القاسم‘‘ کہا کرتے تھے۔
1۔ امام محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
فنهاهم اﷲ تعالي عن ذالک بقوله سبحانه : لا تجعلوا. . . الآية إعظاما لنبيه صلي الله عليه وآله وسلم، فقالوا : يا نبي اﷲ يا رسول اﷲ.
’’پس اللہ عزوجل نے انہیں اپنے اس فرمان ’’ لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ‘‘ کے ذریعہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم کی خاطر منع فرمایا۔ پس صحابہ نے بوقت نداء یا نبی اﷲ، یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کہنا شروع کر دیا۔‘‘
آلوسی، روح المعانی، 18 : 204

تمام علمائے امت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لاپرواہی اور بے توجہی و بے اعتنائی کے طور پر ذاتی نام سے پکارنا حرام ہے اور یہ حکم حیاتِ ظاہری کے ساتھ مختص نہیں بلکہ قیامت تک کے لئے ہے۔ تمام اہلِ ایمان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارنا جائز ہے خواہ قریب ہوں یا بعید اور خواہ حیاتِ ظاہری ہو یا بعد از وصال۔ آیتِ مبارکہ میں وارد ہونے والی نہی کا محل دراصل وہ عامیانہ لہجہ اور طرزِ گفتگو ہے جو صحابہ اور اہلِ عرب ایک دوسرے سے بلا تکلف اختیار کرتے تھے۔ اس حکمِ نہی میں مطلق ندا سے منع نہیں کیا گیا اس لیے تعظیم و تکریم پر مشتمل ندا جائز ہے۔
دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ مدعائے کلام بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و توقیر کی تعلیم ہے لہٰذا اگر صیغہ خطاب کے ساتھ ادب و تعظیم کا تقاضا پورا نہ ہو اور عرفاً و معناً اس ندا سے گستاخی اور اہانتِ رسول کا پہلو نکلتا ہو تو وہ ندا ممنوع اور حرام ہوگی وگرنہ نہیں۔ اہلِ ایمان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیے بغیر، منصبِ نبوت و رسالت کے ساتھ پکارتے ہیں تو اس میں محبت، ادب، تعظیم اور توقیر مراد ہوتی ہے۔
نداء کے جواز کا تیسرا سبب یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریب و بعید اور حیاتِ ظاہری اور بعد از وصال تمام اہلِ ایمان کو تشہد میں سلام پیش کرنے کا جو طریقہ تعلیم فرمایا اس میں دعا و پکار اور نداء بطریقِ خطاب ہی وارد ہے۔ یہ تلفّظ محض حکایۃً نہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے شبِ معراج حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرمایا تھا بلکہ ضروری ہے کہ ہر نمازی اپنی طرف سے بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه. (یا نبی! آپ پر خاص سلامتی، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں) کے کلمات کے ساتھ سلام پیش کرے۔ تمام اہلِ ایمان کو اپنی طرف سے بطور انشاء بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سلام بھیجنا لازم ہے۔ ذیل میں ہم اس سلسلے میں محدثین و محققین کی آراء پیش کرتے ہیں۔
2۔ علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
اجمع الأربعة علي أن المصلي يقول : أيُّهَا النَّبِيُّ. وأن هذا من خصوصياته عليه السلام، إذ لو خاطب مصلٍ أحدًا غيره و يقول السلام عليک بطلت صلاته.
’ائمہ اربعہ کا اس امر پر اجماع ہے کہ نمازی تشہد میں ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ کہے اور یہ اندازِ سلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے۔ اگر کوئی نمازی آپ کے علاوہ کسی ایک کو بھی خطاب کرے اور ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ‘‘ کہے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔‘‘
ملا علی قاري، شرح الشفاء، 2 : 120
3۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے الخصائص الکبریٰ میں ایک مکمل باب قائم کیا ہے اور اس خصوصیت کو درج ذیل عنوان سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا ہے :
باب اختصاصه صلي الله عليه وآله وسلم بأن المصلي يخاطبه بقوله ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ ولا يخاطب سائر الناس.
’’یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس امر کے ساتھ مختص ہیں کہ نمازی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صیغہ خطاب کے ساتھ اس طرح سلام پیش کرتا ہے ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ اور وہ تمام لوگوں کو مخاطب نہیں ہو سکتا۔‘‘
سيوطی، الخصائص الکبري، 2 : 253
4۔ امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ المواہب اللدنیہ میں اور امام زرقانی شرح المواہب میں اسی خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
ومنها أن المصلي يخاطبه بقوله : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه کما في حديث التشهد والصلوٰة صحيحة. ولا يخاطب غيره من الخلق ملکا أو شيطانا أو جمادًا أو ميتاً.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ نمازی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه‘‘ کے کلمات کے ساتھ خطاب کرتا ہے جیسا کہ حدیثِ تشہد میں ہے اور اس کے باوجود اس کی نماز صحیح رہتی ہے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ مخلوق میں سے کسی فرشتے یا شیطان اور جماد یا میت کو خطاب نہیں کر سکتا۔‘‘
زرقانی، شرح المواهب اللدنيه، 5 : 308
5۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں کیا ایمان افروز عبارت لکھی ہے فرماتے ہیں :
واحضر فی قلبک النبي صلي الله عليه وآله وسلم وشخصه الکريم، وقُلْ : سَلَامٌ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه. وليصدق أملک في أنه يبلغه و يرد عليک ما هو أوفٰي منه.
’’(اے نمازی! پہلے) تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کریم شخصیت اور ذاتِ مقدسہ کو اپنے دل میں حاضر کر پھر کہہ : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه. تیری امید اور آرزو اس معاملہ میں مبنی پر صدق و اخلاص ہونی چاہیے کہ تیرا سلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کامل تر جواب سے تجھے نوازتے ہیں۔‘‘
غزالی، إحياء علوم الدين، 1 : 151
اس عبارت سے یہ امر واضح ہوا کہ اگر خطاب اپنے ظاہری معنی و مفہوم میں نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ کو مستحضر سمجھ کر سلام پیش کرنے کی تلقین نہ کی جاتی۔
6۔ نماز میں صیغۂ خطاب سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب ہونے کی حکمت امام طیبی نے بھی بیان کی ہے جسے امام ابنِ حجر عسقلانی نے فتح الباری میں نقل کیا ہے :
إن المصلين لما استفتحوا باب الملکوت بالتحيات أذن لهم بالدخول في حريم الحي الذي لا يموت، فَقَرَّت أعينهم بالمناجاة. فنبهوا أن ذلک بواسطة نبي الرحمة وبرکة متابعته. فالتفتوا فإذا الحبيب في حرم الحبيب حاضر فأقبلوا عليه قائلين : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَة اﷲِ وَ بَرَکَاتُه.
’’بے شک نمازی جب التحیات سے ملکوتی دروازہ کھولتے ہیں تو انہیں ذاتِ باری تعالیٰ حَیٌّ لَا يَمُوْتُ کے حریمِ قدس میں داخل ہونے کی اجازت نصیب ہوتی ہے، پس مناجاتِ ربانی کے سبب ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک عطا ہوتی ہے۔ پھر انہیں متنبہ کیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت اور آپ کی متابعت کی برکت سے حاصل ہوا ہے۔ پس وہ ادھر توجہ اور التفات کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کریم رب کے حضور میں موجود ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یوں سلام پیش کرتے ہوئے متوجہ ہوتے ہیں : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه.‘
عسقلاني، فتح الباري، 2 : 314
7۔ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ صیغہ خطاب کی وجہ پر محققانہ کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
و بعضے از عرفاء گفتہ اند کہ ایں خطاب بجہت سریان حقیقۃ محمدیہ است در ذرائر موجودات وافراد ممکنات۔ پس آن حضرت در ذات مصلیان موجود و حاضر است۔ پس مصلی باید کہ ازیں معنی آگاہ باشد وازین شہود غافل نبود تا بانوار قرب و اسرار معرفت متنور و فائز گردد۔
’’بعض عرفاء نے کہا ہے کہ اس خطاب کی جہت حقیقتِ محمدیہ کی طرف ہے جو کہ تمام موجودات کے ذرہ ذرہ اور ممکنات کے ہر ہر فرد میں سرایت کیے ہوئے ہیں۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازیوں کی ذاتوں میں حاضر و موجود ہیں لہٰذا نمازی کو چاہئے وہ اس معنی سے آگاہ رہے اور اس شہود سے غافل نہ ہو یہاں تک کہ انوارِ قرب اور اسرارِ معرفت سے منور اور مستفید ہوجائے۔‘‘
عبد الحق الدهلوی، اشعة اللمعات، 1 : 401
8۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں :
ذکر کن او را و درود بفرست بروے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و باش در حال ذکر گویا حاضر است پیش تو در حالتِ حیات، و می بینی تو او را امتادب با جلال و تعظیم و ہیبت وحیاء۔ بد آنکہ وے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم می بیند ترا و می شنید کلام ترا زیرا کہ وے متصف است بصفات اﷲ تعالیٰ۔ ویکے از صفات الٰہی آنست کہ انا جلیس من ذکرنی و پیغمبر را نصیب وافر است ازیں صفت.
’’(اے مخاطب!) تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کر اور ان پر درود بھیج اور حالتِ ذکر میں اس طرح سمجھ کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات ظاہری میں تیرے سامنے موجود ہیں، اور تو جلالت و عظمت کو ملحوظ رکھ کر اور ہیبت و حیاء کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہے۔ یقین جان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے دیکھتے ہیں اور تیرا کلام سنتے ہیں کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ موصوف و متصف ہیں۔ ان صفاتِ ربانی میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَنَا جَلِيْسُ مَنْ ذَکَرَنِيْ (میں اس کا ہم نشین ہوں جو مجھے یاد کرے) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس صفتِ الہٰیہ سے وافر حصہ حاصل ہے۔‘‘
عبد الحق الدهلوی، اشعة اللمعات، 2 :  621
 
ایک شبہ اور اس کا ازالہ

بعض لوگوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام بعد از وصالِ نبوی اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ کی بجائے اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ کہتے تھے لہٰذا اب سلام بصیغہ خطاب کہنا جائز نہیں ہے اس لئے شرک ہے۔ ذہن نشین رہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اور صرف اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه کے اندازِ نداء و خطاب میں ہی سلام پیش کرنے کا طریقہ سکھلایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قطعاً یہ نہیں فرمایا کہ میری ظاہری حیات میں تو مجھ پر سلام نداء و خطاب کے ساتھ پیش کریں اور بعد از وصال بدل دیں۔ اگر بعد از وصال نداء و خطاب کے انداز میں سلام پیش کرنا جائز نہیں تھا تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشہد کے بارے میں تعلیم ادھوری اور ناقص رہ گئی؟ (معاذ اﷲ) کیا کوئی عام مسلمان بھی یہ تصور کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت میں منبر پر بیٹھ کر نداء و خطاب پر مشتمل تشہد و سلام کی تعلیم دی اور اکابر صحابہ کی موجودگی میں یہ تلقین فرمائی اور کسی صحابی نے اس کا انکار نہیں کیا۔ خطاب کے صیغہ کے ساتھ سلام پیش کرنے پر اجماعِ صحابہ ہے۔ خلفائے راشدین اور دیگر اکابر صحابہ نے اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ کے صیغہ خطاب کے ساتھ سلام پیش کیا ہے۔ تاہم اتنا کہا جا سکتا ہے کہ نداء و خطاب کے صیغہ کے ساتھ سلام پیش کرنا واجب نہیں ہے لیکن وجوب کی نفی سے جواز بلکہ استحباب کی نفی بھی لازم نہیں آتی کیونکہ خلفائے راشدین اور اہلِ مدینہ کا اجماع اور جمہور امت کا اسی پر مداومت کے ساتھ عمل اس پر شاہدِ عادل اور دلیلِ صادق ہے۔ علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس پر قول بطور دلیل ہم پچھلے صفحات میں نقل کر آئے ہیں کہ جمہور امت کے نزدیک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بصیغہ نداء و خطاب کے ساتھ سلام پیش کرنا بالکل جائز ہے۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی ظاہری حیاتِ طیبہ اور بعد از وصال صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سلف صالحین نے قریب اور بعید کی مسافت کے فرق کے بغیر بصیغہ نداء و خطاب پکارا۔ مستند کتبِ احادیث اور سیر میں درجنوں واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ اکابر اور سلف صالحین کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بصیغہ خطاب پکارنے میں کسی قسم کے الجھاؤ اور شک و شبہ میں مبتلا نہیں رہے۔ انہوں نے اپنی اپنی کتب میں اس عقیدہ صحیحہ کو بڑی شرح و بسط کے ساتھ واضح کیا ہے۔


آئمہ تصوف نے اپنے تمام معتقدات، تصورات اور معمولات کی بنیاد قرآن و سنت کو ٹھہرایا ہے، حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
’یہ راہ یعنی تصوف صرف وہی پا سکتا ہے جس کے دائیں ہاتھ میں قرآنِ حکیم اور بائیں ہاتھ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو اور وہ اِن دو چراغوں کی روشنی میں راستہ طے کرے تاکہ نہ شک و شبہ کے گڑھوں میں گرے اور نہ ہی بدعت کے اندھیروں میں پھنسے۔‘
فريد الدين عطار، تذکرة الأولياء : 9

سلسلہ عالیہ چشتیہ کے نامور شیخ حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی فرماتے ہی
’’شیخ طریقت کا مسلک حجت نہیں ہے دلیل قرآن و حدیث سے ہونی چاہئے۔‘‘
عبد الحق، اخبار الاخيار : 81

اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری اور دعا کا طریقہ

اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری اور دُعا سے متعلق بعض طبقات کی سوچ اور طرزِ عمل افراط و تفریط کا شکار ہے۔ ایک طبقہ وہ ہے جو سرے سے اِس کے جواز کا ہی قائل نہیں بلکہ اِسے صریح شرک و بدعت گردانتا ہے۔ اِس کے برعکس ایک طبقہ عوام الناس کا ہے جسے اہلِ علم کی سند حاصل نہیں وہ بھی اِس سلسلہ میں جہالت اور تفریط میں مبتلا ہے۔ جمہور مسلمانوں کا مزارات پر طریقِ حاضری و دُعا نہایت معقول اور حزم و احتیاط کا آئینہ دار ہے۔ قاضی الحاجات، فریاد رس اور حقیقی مشکل کشا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ لیکن مقربینِ بارگاہِ الٰہی انبیاء و اولیاء کا دُعا میں توسل جائز ہے اور اِن کے توسل سے دُعائیں قبول ہوتی ہیں۔ 
 اِس سلسلہ میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
’قبورِ اولیاء کی زیارات کے آداب میں سے ہے کہ زائر قبر کی طرف منہ اور قبلہ کی جانب پیٹھ کر کے صاحبِ قبر کے منہ کے برابر کھڑا ہو جائے، اُسے سلام کہے، ہاتھ سے قبر کو نہ چھوئے اور نہ قبر کو بوسہ دے اور نہ قبر کے سامنے جھکے اور قبر کے سامنے مٹی پر اپنا منہ نہ ملے کیونکہ یہ طریقہ نصاریٰ کا ہے۔ قبر کے پاس قرآن حکیم کی تلاوت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک (بآوازِ بلند) مکروہ ہے، مگر امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مکروہ نہیں ہے۔ علمائِ احناف میں سے صدر الشہید نے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو اختیار کیا ہے اور اِسی پر فتویٰ ہے۔ شیخ امام محمد بن الفضل نے کہا ہے کہ قبر کے نزدیک اُونچی آواز میں قرآن خوانی مکروہ ہے، لیکن اگر دھیمی آواز میں ہو تو سارا قرآن مجید پڑھ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔‘‘
 شاه عبدالحق، اشعة اللمعات، باب زيارة القبور 763

 
یہ بات ذہن نشین رہے کہ صالحینِ اُمت کے مزارات کو بوسہ دینا ضروری اُمور میں سے نہیں ہے لہٰذا اس عمل کو منکرین و مخالفین کے ردِعمل میں بے ادبی اور گستاخی سمجھنا اچھا نہیں ہے۔ اکابر مشائخ کے ملفوظات اور اُن کے معمولات میں احتیاط پسندی کی خاطر بوسہ دینے سے منع کیا گیا ہے۔ 
چنانچہ پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ اِس سلسلہ میں لکھتے ہیں :

’بہتر یہی ہے کہ اربابِ علم اور رہنمایانِ قوم میں سے کوئی آدمی مزارات کا بوسہ نہ لے تاکہ دیکھا دیکھی میں بے علم اور عام اَن پڑھ لوگ گمراہی کے بھنور میں نہ پھنس جائیں۔ کیونکہ وہ جہالت کی وجہ سے بوسہ اور سجدہ میں تمیز نہیں کر سکتے۔‘
پير مهر علی شاه، تحقيق الحق : 159


مزاراتِ اولیاء پر دعا کا درست طریقہ

سلف صالحین نے قبورِ اولیاء پر حاضری دینے والے زائرین اور دُعا کرنے والوں کے لئے دو طریقے بیان کئے ہیں :

1۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ دعا مانگنے والا اللہ تعالیٰ کا محتاج اور فقیر ہے اور اپنی حاجت اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہے، مگر دُعا میں صاحبِ مزار کی روحانیت، بزرگی اور اُس کی خدماتِ جلیلہ کا وسیلہ پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے اور یہ عرض کرتا ہے کہ ’’اے میرے مولا! اِس صاحبِ مزار کی برکت سے اور اُس رحمت و عنایت کے صدقے جو تو نے اس صاحب مزار پر کی ہے اور اسے عظمت و بزرگی عطا فرمائی ہے، میری فلاں حاجت کو پورا فرما، کیونکہ حقیقی عطا کرنے والا اور مرادیں پوری کرنے والا تو ہے۔‘‘

2۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دعا مانگنے والا صاحبِ مزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہے کہ ’’اے اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے! میری فلاں مراد اللہ تعالیٰ سے طلب کیجئے، اللہ تعالیٰ مجھے میری مطلوب شے عطا کر دے۔‘‘ اِس طرح بھی سوال اللہ تعالیٰ ہی سے کیا جاتا ہے کیونکہ حقیقی مشکل کشا وہی ذات ہے، لیکن یہ اسلوب اختیار کرنا بطریقِ مجاز ہے جس کے تحت صاحبِ قبر کو بطور وسیلہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ بھی اِس لئے جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ جسے چاہے اس کی التجا سنوا دے کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ کوئی قبر والا ہو یا زندہ چلتا پھرتا انسان، اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کے بغیر نہیں سن سکتا۔ یہ امر بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ دُعا کرنے والے کی آواز کو قبر والے تک پہنچا دے اور پھر صاحبِ قبر عالمِ ارواح میں اللہ تعالیٰ سے اُس حاجت مند کے مقاصد کو پورا کر دینے کی التجا کرے۔ اِس طریقے میں بھی حاجت مند بالواسطہ اللہ تعالیٰ ہی سے مانگ رہا ہوتا ہے نہ کے صاحبِ قبر سے۔

اِن نازک اعتقادی اُمور کو بڑی احتیاط کے ساتھ عامۃ المسلمین کے سامنے بیان کرنا چاہیے۔ بعض حضرات مزارات پر حاضری دیتے وقت ایسے اعمال و افعال کرتے ہیں جو جمہور امت کے شعار کے خلاف ہیں۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معاندین و مخالفین کو اعتراض کا موقع مل جاتا ہے۔ اس میں قصور درحقیقت ہمارے ان بعض ائمہ و خطبا کا ہوتا ہے جو ایسے نازک عقائد میں احتیاط کو ملحوظ نہیں رکھتے اور بے جا تاویلات اور اُلٹے سیدھے دلائل عوام کی تائید کی خاطر بیان کرتے رہتے ہیں۔ اس سے ناقص لوگوں کے ذہن اُلجھاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حیات شیخ و مرشد سے دُعا کرانے کی صورت میں بھی حاجت مانگنا اللہ تعالیٰ ہی سے متصور ہوتا ہے کیونکہ وہ بھی تو اللہ تعالیٰ ہی سے مانگتا ہے۔ کوئی ولی اللہ یا شیخِ طریقت یہ نہیں کہتا کہ ’’ اے حاجت مند! یہ سب کچھ میں تجھے دے رہا ہوں، ‘‘ بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ تم بھی اللہ تعالیٰ سے مانگو اور ہم بھی اُسی سے تمہارے لئے دعا کرتے ہیں۔ بعض اوقات کئی جہلا ’’پیر صاحب‘‘ کو مخاطب کرکے کہتے ہیں : ’’یا صاحبِ مزار مجھے اولاد دے دیں، صحت دے دیں یا فلاں مسئلہ حل کر دیں۔‘‘ ایسے موقعوں پر دین سے محبت، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ بروقت ایسے لوگوں کی اصلاح کر دی جائے۔

بزرگوں کے نزدیک دُعا میں زیادہ پسندیدہ اور محتاط طریقہ یہی ہے کہ قرآن و سنت میں منقول دُعائیں مانگنا معمول بنایا جائے اور حضرات انبیاء علیہم السلام و اولیاء کرام کا وسیلہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے۔ اگر خاص حاجت مانگنی ہو تو حضرات انبیاء و اولیاء و مقربینِ بارگاہ اِلٰہی سے اور بالخصوص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں درخواست کی جائے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ بے کس پناہ میں دُعا فرما دیں کہ ہماری مشکلات آسان فرما دے اور حاجتیں بر لائے۔ یہ وہ محتاط طریقہ دُعا ہے جس پر کوئی شخص اعتراض نہیں کر سکتا۔ حزم و احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جہاں توہمات اور بدعات و خرافات میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اُس راستہ کو یکسر بند کر دیا جائے۔

باقی رہے خواص تو اپنی خداداد بصیرت اور رُوحانی طاقت سے عالمِ کشف میں وہ صاحبانِ قبر سے ہم کلام بھی ہوتے ہیں اور صاحبِ مزار سے رابطہ بھی رکھتے ہیں۔ جہاں صالحین کے مزار کی زیارت سے زائرین کو روحانی فیض و برکت حاصل ہوتی ہے وہاں بعض اوقات صاحبِ ولایت و مقام زائرین سے صاحبانِ قبر کی رُوح بھی روحانی برکت و فیض حاصل کرتی ہے۔
حضرات انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ ذاتی یا مستقل طور پر متصرف ہیں یا اِس طرح تصرف و اختیار میں شریک سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ اُن کی شرکت کے بغیر کائنات کا نظام نہیں چلا سکتا، کفر ہے۔ اس طرح کی ہر غلطی کی اصلاح کرکے اسے جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا چاہئے۔ بزرگوں سے عقیدت اپنی جگہ لیکن کسی بھی مسئلہ میں غلو جائز نہیں۔

مزارات کے طواف اور شور و غل کی ممانعت


کعبۃ اللہ کے علاوہ کسی مقام یا قبر کا طوافِ تعظیمی منع ہے۔
 فقہائے کرام نے قبرستان میں خیرات اور شیرینی تقسیم کرنے سے اس لئے منع کیا ہے کہ تقسیم کے وقت بچے اور عورتیں شور و غل کرتے ہیں۔ قبرستان کا ادب و احترام قائم نہیں رہتا لہٰذا ایسا کرنے میں بھی احتیاط کرنی چاہیے
۔ مساکین اور زائرین کے لئے مزارات پر الگ اہتمام ہونا چاہیے۔ 
مقبولانِ بارگاہِ خداوندی کے اعراس میں جو ناجائز افعال و اعمال کئے جاتے ہیں اِن سے صاحبِ مزار کو تکلیف و اذیت پہنچتی ہے۔ اِس طرح صاحبِ مزار کا فیض اور برکت زائر کو نصیب نہیں ہوتی۔
 خیرات کی چیزیں اُوپر سے پھینکنا اور لوگوں کا اُن کو بطور تبرک حاصل کرنے کے لئے شور و غل کرنا، ایسے تمام اُمور غلط ہیں اور سلف صالحین نے اِن کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اس طرزِ عمل سے ایک تو رزق کی بے حرمتی ہوتی ہے، دوسرا مزار کا ماحول اور اُس کا تقدس پامال ہوتا ہے اور تیسرا اِس میںریاکاری کا عمل دخل ہے۔ لہٰذا ایسے تمام اُمور سے پرہیز کرنا چاہیے۔

مزارات پر نذر و نیاز اور تبرک کی حقیقت 

مزاراتِ اولیاء پر نذر و نیاز دینے اور وہاں ’’لنگر‘‘ پکانے یا کھانے کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ یہ ایک نیک عمل ہے جس کی اصل قرآن و سنت میں موجود ہے۔ یہ صدقہ جاریہ کی ایک مستحسن صورت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کو نواز رکھا ہے۔ ’’اطعام الطعام‘‘ تعلیمات قرآن و سنت کی معروف اصطلاح اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ سورۃ الدھر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب اور مخلص بندوں کی خصوصیات بیان فرمائی ہیں جن میں ضرورت مندوں اور ناداروں کو کھانا کھلانا بنیادی خصوصیت قرار دیا گیا، 
 ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًاO إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًاO إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًاO
’’اور (اپنا) کھانا اﷲ کی محبت میں (خود اس کی طلب و حاجت ہونے کے باوُجود اِیثاراً) محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھلا دیتے ہیںo (اور کہتے ہیں کہ) ہم تو محض اللہ کی رضا کیلئے تمہیں کھلا رہے ہیں، نہ تم سے کسی بدلہ کے خواستگار ہیں اور نہ شکرگزاری کے (خواہشمند) ہیںo ہمیں تو اپنے ربّ سے اُس دن کا خوف رہتا ہے جو (چہروں کو) نہایت سیاہ (اور) بدنما کر دینے والا ہےo‘‘
الدهر، 76 : 8 - 10

یہ کام اہل اﷲ کے نزدیک نفلی عبادت سے زیادہ باعثِ ثواب ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ مخلوقِ خدا کی خدمت دراصل اللہ تعالیٰ کو خوش رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا نمایاں وصف ہے اور اسوۂ حسنہ کے اتباع میں تمام صوفیاء کا معمول رہا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود یتیموں، مسکینوں اور ناداروں کا سہارا اور ملجا تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی متعدد احادیث میں ’’اطعام الطعام‘‘ کی ترغیب اور حکم موجود ہے۔ بلکہ بعض صحیح احادیث میں بیان ہوا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی تعریف اور بنیادی خصوصیات میں کھانا کھلانے اور دوسرے کی خیر خواہی چاہنے کو شامل فرمایا۔ ملاحظہ ہو فرمان نبوی :
1۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے سوال کیا :
أَيُّ الْاِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ : تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَی مَنْ عَرَفْتَ وَ مَنْ لَمْ تَعْرِفْ.
’’بہترین اسلام کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو کھانا کھلائے اور سلام کرے اس شخص کوجس کو تو پہچانتا ہو یا نہ پہچانتا ہو۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، کتاب الإيمان، باب افشاء السلام، 1 : 19، رقم : 28
2. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب تفاضل الإيمان، 1 : 65، رقم : 39
3. ابوداؤد، السنن، کتاب الأدب، باب في افشاء السلام، 4 : 350، رقم : 5194

2۔ اسی طرح مشہور صحابی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت فرمایا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس کی بجا آوری سے میں جنت کا حق دار ٹھہر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
أطْعِمِ الطَّعَامَ، وَ أفْشِ السَّلَامَ، وَصِلِ الْأرْحَامَ، وَصَلِّ بِالَّيْلِ وَالنَّاسُ نَيامٌ تَدْخُلُ الْجَنَّة بِسَلَامٍ.
’ضرورت مند کو کھانا کھلاؤ، سلام (سلامتی اور خیر خواہی) کو عام کرو، صلہ رحمی کرو اور دوسرے لوگ نیند کے مزے لے رہے ہوں تو تم اٹھ کر نماز (تہجد) پڑھا کرو (ان اعمال کے باعث تم) سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘

1. ابن حبان، الصحيح، 6 : 299، رقم : 2559
2. حاکم، المستدرک، 4 : 144، رقم :  7174

3۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت مدینہ تشریف لائے تو اول کلام جو میں نے ان سے سنا وہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
اَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوْا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّة بِسَلَامٍ.
’’لوگو! سلام کو عام کرو اور کھانا کھلاؤ اور جب لوگ سو رہے ہوں، نماز پڑھو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘

1. ترمذي، السنن، کتاب صفة القيامة، 4 : 652، رقم : 2485
2. ابن ماجه، السنن، کتاب الأطعمة، 2 : 1083، رقم : 3251
3. احمد بن حنبل، المسند، 5 : 451، رقم : 23835

4۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس سے مماثل روایت ہے جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اطعام الطعام کو اﷲ کی عبادت کا ہم پلہ عمل قرار دیتے ہوئے فرمایا :
اعْبُدُوا الرَّحْمٰنَ وَ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَ أَفْشُوا السَّلَامَ تَدْخُلُوا الْجَنَّة بِسَلَامٍ.
’تم رحمٰن کی عبادت کرو اور کھانا کھلاؤ اور سلام عام کرو ان تین امور کی انجام دہی کے ثمر کے طور پر تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘

1. ترمذی، السنن، کتاب الأطعمة، باب فضل اطعام الطعام، 4 : 2870، رقم : 1855
2. احمد بن حنبل، المسند، 2 : 170، رقم : 6587
3. دارمی، السنن، 2 : 148، رقم : 2081
4. بزار، المسند، 6 : 383، رقم : 2402
5. بخاری، الأدب المفرد، 1 : 340، رقم : 981

آپ نے قرآن و سنت کے واضح احکام کو ملاحظہ کیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھلانے کا کس قدر اہتمام اور تاکید کے ساتھ ذکر فرمایا۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ کے متقی، پرہیزگار، مخلصین اور محبین، اللہ تعالیٰ سے قربت اور اخلاص کا دعویٰ کریں اور اس کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و اطاعت کا دم بھی بھریں لیکن ان کے ہاں مخلوقِ خدا کو خیر خواہی نہ ملے، بھوکوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب اور عملی مظاہرہ نہ ہو چنانچہ مقربینِ بارگاہِ ایزدی جب حیات ہوتے ہیں خود بھی مخلوق کے لیے سراپا خیر ہوتے ہیں، ان کے دوست دشمن، امیر غریب جاننے والے اور غیر سب کے لیے ان کا دست عطا کھلا رہتا ہے اور جب وہ دنیا سے چلے جاتے ہیں تو اس وقت بھی ان کے اس عمل خیر میں انقطاع نہیں ہوتا۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جہاں جہاں ایسے مزارات ہیں وہاں قائم لنگرخانوں میں نادار، غریب اور مفلوک الحال لوگ پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں۔ انہیں دو وقت کا کھانا مفت ملتا ہے تو یہ خود ایک بہت بڑی انسانی خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی میں ان کے اخلاصِ عمل کو برکت سے نواز کر ان کے وصال کے بعد بھی ایصالِ ثواب کی یہ سبیل جاری رکھی ہوئی ہے۔ یہ دراصل زمین پر مائدۃ الرحمن (الوہی دسترخوان) ہے جس کی سعادت سے یہی عظیم المرتبت لوگ نوازے جاتے ہیں۔ انسانی استطاعت و طاقت سے یہ ممکن نہیں ہوتا بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق اور عنایت سے ہی اس قدر وسیع اسباب و وسائل میسر آتے ہیں۔
برصغیر پاک و ہند میں ایسے مزارات بکثرت موجود ہیں مثلاً سیدنا علی بن عثمان الہجویری المعروف داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت بابا فرید مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ پاک پتن شریف، خواجہ ھند حضرت معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ، حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مجدد الف ثانی، شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح کے سینکڑوں مراکز اور مقامات ہیں جہاں آج بھی ہزاروں اور لاکھوں ایسے لوگ کھانا کھاتے ہیں جو بے روزگار اور بے سہارا ہوتے ہیں۔ غریب اور یتیم بچے، عورتیں، بوڑھے اور بیمار، سب بلاتمیز رنگ و نسل، عقیدہ و مذہب ان آستانوں پر آزادانہ کھاتے پیتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق حضرت داتا صاحب کے احاطۂ مزار میں ہر روز 20 سے 30 ہزار لوگ مختلف شکلوں میں ’’لنگر‘‘ سے کھانا حاصل کرتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں بھوکوں، بے روزگاروں اور ضرورت مندوں کو کھانا کھلانا کوئی معمولی بات نہیں۔
یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی خصوصی عطاء سے ہی ممکن ہے ورنہ دنیا کا کوئی بادشاہ، دولت مند شخص یا تنظیم ایسا کرنے کی صلاحیت و قدرت نہیں رکھتی۔ پھر یہ سلسلہ دو چار دنوں یا مہینوں سے نہیں بلکہ صدیوں سے جاری و ساری ہے۔ ایسے نیک اور خدمتِ خلق پر مبنی عمل کو بلاسوچے سمجھے شرک و بدعت اور حرام کہنا بجائے خود بہت بڑی جسارت ہے۔ جیسا کہ اوپر ہم عرض کر چکے ہیں کہ یہ ’’اطعام الطعام‘‘ کے فرمانِ الٰہی پر عمل درآمد کی ایک بہترین شکل ہے۔ جائز مشروع اور مخلوقِ خدا کیلئے مفید عمل کو بلادلیل ناجائز عمل کہنا دراصل دین میں تجاوز ہے۔ یہ ایک طرف کی سوچ اور نقطۂ نظر ہے۔
دوسری طرف اس سے بھی زیادہ قباحتیں موجود ہیں۔ انہی قباحتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کئی لوگوں نے اس لنگر یا نذر و نیاز کے کھانے سے متعلق بہت سی خود ساختہ باتیں گھڑ رکھی ہیں۔ کہیں اس کی شفا کے مبالغہ آمیز تذکرے کیے جاتے ہیں، کہیں اس کے عدمِ استعمال پر انجام بد سے ڈرایا جاتا ہے اور کسی جگہ کا لنگر ہر گناہ اور معصیت سے چھٹکارے کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ بزرگانِ دین کے مزارات اور ان کی قربت بلاشبہ باعثِ خیر و برکت ہے اور ان کے آستانوں پر توسلاً اللہ پاک بیماروں کو شفا بھی دیتا ہے مگر یہ سب فوائد اضافی ہیں بنیادی غرض و غایت تو ضرورت مندوں کی بھوک کا ازالہ ہے۔
علاہ ازیں بعض مقامات اور مزارات پر اس نیک عمل کو بے جا پابندیوں اور اضافی شرطوں سے خاص کردیا جاتا ہے مثلاً شیرینی کے ساتھ مختلف تحریریں لکھ دی جاتی ہیں جن کے ذریعے زائرین پر نفسیاتی طور پر ترغیب و ترھیب سے اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ ’’یہ کھانے سے اتنے پھیرے اور اسی طرح کی نیاز کی مزید تقسیم ضروری ہے۔‘‘ وغیرہ۔
یہ سب رسوم و رواج جہالت اور مزارات کے غلط استعمال کی مختلف شکلیں ہیں ایسی قباحتوں سے صاحبِ مزار کو یقینا تکلیف پہنچتی ہے اس لئے ایسے امور سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عرس کی شیرینی کھانے کے فضائل بیان کرنے اور نہ کھانے والے کو محروم سمجھے جانے کی کوئی اصل نہیں ہے۔
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ عرس کی شیرینی کے متعلق یہ کہنا کہ جوکوئی اِس کو کھائے گا اُس کا جنت مقام و دوزخ حرام ہے یہ کہنا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟
انہوں نے جواب دیا : ’’یہ کہنا جزاف اور یاوہ گوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس کا جنت مقام اور کس پر دوزخ حرام ہے۔ عرس کی شیرینی کھانے پر اللہ و رسول کا کوئی وعدہ ایسا نہیں ثابت جس کے بھروسہ پر یہ حکم لگا سکیں۔ یہ تقول علی اﷲ کے مترادف ہے اور وہ ناجائز ہے۔
قال اﷲ تعالی : اَطَّلَعَ الْغَيبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا (مريم، 19 : 78)، قال اﷲ تعالی : أَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اﷲِ مَالَا تَعْلَمُوْن (البقرة، 2 : 80).
ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’وہ غیب پر مطلع ہے یا اس نے (خدائے) رحمن سے (کوئی) عہد لے رکھاہے؟ (اسی طرح) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : ’’تم اللہ پر یونہی (وہ) بہتان باندھتے ہو جو تم خود بھی نہیں جانتے۔‘‘
امام احمد رضا خان، فتاویٰ رضويه، 4 : 219

کلماتِ توسُّل میں احتیاط

اگر کوئی جاہل یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وسیلہ کے بغیر دُعا قابلِ سماعت ہی نہیں یا وسیلہ کا معنی یہ سمجھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ پر العیاذ باللہ کوئی بوجھ یا دباؤ پڑتا ہے، تو ایسا عقیدہ باطل ہے جس کا سلف صالحین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے مزارات پر فاتحہ کے طریقہ کے متعلق پوچھا گیا کہ ’’بزرگوں کے مزارپر جائیں تو فاتحہ کس طرح سے پڑھا کریں؟‘‘ انہوں نے جواب دیا : ’’مزاراتِ شریفہ پر حاضر ہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم از کم چار ہاتھ کے فاصلہ پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز میں مودِبانہ سلام کرے۔ ختم وغیرہ پڑھ کر اللہ عزوجل سے دعا کرے کہ الٰہی اس قرات پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے نہ اِتنا جو میرے عمل کے قابل ہے اور اِسے میری طرف سے اِس بندہ مقبول کو نذر پہنچا۔ پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو اُس کے لئے دُعا کرے اور صاحبِ مزار کی رُوح کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قرار دے۔ پھر اُسی طرح سلام کر کے واپس آئے۔ مزار کو ہاتھ نہ لگائے، نہ بوسہ دے۔ طواف بالاتفاق ناجائز ہے جبکہ سجدہ حرام ہے۔‘‘
امم احمد رضا خان، فتاویٰ رضويه، 4 : 212

سجدۂ تعظیمی اور قبر کی سمت سجدہ کرنے کی ممانعت

سجدہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لئے جائز نہیں۔ غیر اللہ کو سجدۂ عبادت کھلا کفر ہے اور سجدۂ تعظیمی حرام ہے بلکہ ایسا عمل بھی ممنوع ہے جو سجدہ کی سی مشابہت رکھتا ہو وہ بھی مزارات پر نہیں کرنا چاہیے۔
حضرت ابو مرثد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
لَا تُصَلُّوْا إِلَی الْقُبُوْرِ وَ لَا تَجْلِسُوْا عَلَيْهَا.
’’قبروں کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھو اور نہ اُن پر بیٹھو۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، کتاب الجنائز، باب النهی عن الجلوس علی القبر، 2 : 668، رقم : 972
2. نسائی، السنن، کتاب القبلة، باب النهی عن الصلوة إلی القبر، 2 : 67، رقم : 760
3. احمد بن حنبل، 4 : 135

 عامۃ الناس میں سے بعض لوگ مزارات کو بوسہ دیتے اور چوکھٹ چومتے ہیں یہ ناپسندیدہ فعل، مکروہ کے زمرے میں داخل ہے مگر شرک کے دائرے میں نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین بوسی حقیقتاً سجدہ نہیں کیونکہ سجدہ میں سات اعضاء کا بیک وقت زمین پر رکھنا ضروری ہے۔ ہاں زمین بوسی اِس وجہ سے ممنوع ہے کہ مشابہتًا بت پرستی اور صورۃً قریبِ سجدہ ہے۔ حقیقتاً سجدہ نہ سہی پھر بھی منع ہے۔ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اِس مسئلہ پر باقاعدہ الگ کتاب ’’الزبدۃ الزکیۃ لتحریم سجود التحیۃ‘‘ لکھی ہے جس میں انہوں نے ٹھوس دلائل سے سجدۂ تعظیمی اور خلافِ شرع اُمور کی تردید فرمائی ہے۔

اَعراس سے متعلقہ اُمور میں احتیاط 

متعلقاتِ اعراس کے بارے میں مخالفین کا طرزِ عمل تو واضح ہے کہ وہ ہر جائز اور مباح کو شرک و بدعت گردانتے ہیں جو کہ قرآن و سنت کے نصوص کے برعکس ہے لیکن ان مبارک امور کو ماننے والے بھی بعض اوقات ان کی انجام دہی میں بڑی بے احتیاطی کرتے ہیں لہٰذا انہیں محتاط طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ اِن نازک اُمور کے بارے میں لکھتے ہیں :
این طعن مبنی است بر جہل بہ احوالِ مطعون علیہ زیرا کہ غیر از فرائض شرعیہ مقررہ را ہیچ کس فرض نمی داند۔ آرے زیارت و تبرک بہ قبورِ صالحین و امدادِ ایشاں باہداء ثواب و تلاوتِ قرآن و دعائے خیر و تقسیم طعام و شیرینی امر مستحسن و خوب موجبِ فلاح و نجات است۔ و خلف را لازم است کہ سلف خود را بدیں نوع برّو احسان نماید، چنانچہ در احادیث ثابت است کہ ولد صالح یدعو لہ۔ تلاوتِ قرآن و اہدائے ثواب را عبادت قرار دادن، مبنی برکمالِ بلادت و افراطِ جہل است۔ آرے اگر کسے سجدہ و طواف بہ نحوِ یا فلاں افعل کذا آرد مشابہت بہ عبدۃُ الاوثان کردہ باشد وچوں چنیں نیست پس در محل طعن نباشد۔
’’یہ طعن اور اعتراض حقیقتِ حال سے عدم واقفیت کے باعث کیا گیا ہے اِس لئے کہ شریعت کے مقرر کردہ فرائض کے سوا کوئی آدمی کسی شے کو اپنی طرف سے فرض نہیں سمجھتا۔ ہاں البتہ اولیاء اللہ کے مزارات کی زیارت کرنا اور اُن سے فیض و برکت حاصل کرنا اور قرآنِ حکیم کی تلاوت کے بعد اُن کی ارواحِ طیبہ کو ثواب کا ہدیہ پیش کر کے اُن کی مدد کرنا، وہاں اچھی دُعائیں کرنا، مٹھائی یا کھانا تقسیم کرنا ایک اچھا عمل ہے اور فلاح و نجات کا بہت اچھا ذریعہ ہے۔ بعد میں آنے والوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اسلاف پر اس طرح کا احسان کریں چنانچہ احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ نیک اولاد ماں باپ کے لئے دُعا مانگے۔ قرآن حکیم کی تلاوت اور اِس کے ایصالِ ثواب کو عبادت کے زُمرے میں داخل کرنا بے وقوفی اور جہالت پر مبنی ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص کسی قبر کے سامنے سجدہ کرے یا اُس کا طواف کرے یا اِن الفاظ میں دُعا کرے کہ اے صاحبِ مزار! میرا فلاں کام یوں کر دے، ایسا کرنا بتوں کے پجاریوں سے مشابہت پیدا کرتا ہے۔ چونکہ اولیاء اللہ کی قبروں پر آنے والے اِس طرح کا کوئی عمل نہیں کرتے اِس لئے اُن پر اِس قسم کا طعن درست نہیں ہے۔‘‘
مهر علی شاه، اعلاء کلمة اﷲ : 66

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی مزار پر جا کر براہِ راست اُنہیں حاجت روا سمجھ کر ایسے الفاظ کہنا جائز نہیں۔ اِس سلسلہ میں ہمیں لوگوں کو صحیح اور متوازن طریقہ بتاتے رہنا چاہیے۔ مشکل کشا، داتا گنج بخش، غریب نواز، دستگیر وغیرہ جیسے القابات جو بزرگوں کے ساتھ اِستعمال کیے جاتے ہیں، مجازاً کئے جاتے ہیں۔ اِن الفاظ کو حقیقتاً اور مستقلاً کسی کے ساتھ بھی اِستعمال کرنا جائز نہیں۔




مزارات کے درختوں کے نیچے منتیں ماننا 

بعض مزارات کے قریب بیری وغیرہ کے درخت ہوتے ہیں جن کے نیچے لوگ چادریں بچھا کر بیٹھتے ہیں۔ اگر بیر گرے تو اُس کا احترام بجا لاتے ہیں اور اُس سے روزہ افطار کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ بیری کے پھل سے بیٹے کی فال نکالتے ہیں اور اگر پتے گریں تو بیٹیوں کی فال نکالتے ہیں۔ کوئی شخص خود بیر توڑ لے تو اُسے بھی سخت برا گردانتے ہیں۔ یہ تمام اُمور توہم پرستی کو فروغ دینے والے ہیں اور ایسے تمام اُمور بے بنیاد ہیں اور شرعاً ان کی کوئی اصل نہیں لہٰذا علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو حقائق سے آگاہ کریں۔
اسی طرح قبر بلامقبور کی زیارت کرنے کی کوئی اصل نہیں ہے۔ بعض جہلاء فرضی مزارات بنا کر اس کے ساتھ اصل کا سا معاملہ کرتے ہیں جس کی فقہائے کرام نے اجازت نہیں دی۔ جس طرح کہ بعض جگہ لوگوں نے حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلا نی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے مزارات وغیرہ بنائے ہوئے ہیں جن پر عرس کرتے ہیں۔ محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے اس سلسلے میں پوچھا گیا کہ ’’پیرانِ پیر رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے بعض جگہ مزار بنا لیا گیا ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اِن کے مزار کی اینٹ دفن ہے۔ اِس مزار میں ایسی جگہ جا کر عرس کرنا، چادر چڑھانا کیسا ہے وہ قابلِ تعظیم ہے یا نہیں؟‘‘ آپ نے جواب دیا : ’’جھوٹا مزار بنانا اور اُس کی تعظیم جائز نہیں۔‘‘
فتاویٰ رضويه، 4 : 116

اِسی طرح بعض اولیاء اللہ کے مزارات کے قریب ایسے درخت ہوتے ہیں جن کے بارے میں لوگوں میں مشہور ہوتا ہے کہ اِن کے کاٹنے سے صاحبانِ مزار ناراض ہو جاتے ہیں لہٰذا اِنہیں کاٹنا مقاماتِ حرم کی طرح حرام ہے۔ یہ سراسر جہالت ہے اور یہ بھی شرک فی التحریم ہے۔ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ درست اور غلط عقیدے میں امتیاز پیدا کریں اور ایسے شرکیہ عقائد سے عوام و خواص کو منع کریں۔
سر پر چوٹی رکھنا
مردوں کا سر پر کسی بھی بزرگ کے نام پر چوٹی رکھنا اور پھر کٹوانے کی نذر و منت ماننا شرعاً جائز نہیں۔ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت عمدہ لکھا ہے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ کیا مرد کو چوٹی رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ بعض فقیر چوٹی رکھتے ہیں؟
آپ نے فرمایا کہ حرام ہے، حدیث میں آیا ہے :
أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم لَعَنَ الْمُتَشَبِّهِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ. [ابن ماجة، السنن، کتاب النکاح، باب فی المخنثين، 1 : 614، رقم : 1904].
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت رکھیں اور ایسی عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کریں، لعنت کی ہے۔‘‘
احمد رضا خان، الملفوظ، 2 : 210

بچوں کے سر پر اولیاء کے نام کی چوٹی رکھنے کے متعلق حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں : ’’بعض جاہل عورتوں میں دستور ہے کہ بچے کے سر پر بعض اولیائے کرام کے نام کی چوٹی رکھتی ہیں اور اِس کی کچھ میعاد مقرر کرتی ہیں۔ اِس میعاد تک کتنی ہی بار بچے کا سر منڈے وہ چوٹی برقرار رکھتی ہیں، پھر میعاد گذار کر مزار پر لے جا کر وہ بال اُتارتی ہیں تو یہ محض بے اصل و بدعت ہے۔‘‘
فتاوي افريقه : 68

مختلف درختوں میں ارواحِ شہداء و اولیاء کا تصور کرنا

کئی دیہاتوں میں بعض جہلاء درختوں کے ساتھ عجیب و غریب داستانیں وضع کئے ہوئے ہیں اور فرضی قصے کہانیاں سنا کر مجاور لوگ لنگر کے لئے تحائف و ہدایا اکٹھے کرتے ہیں۔ اِن سے متعلق محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے مسئلہ پوچھا گیا : ’’کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت اِس صورت میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں درخت پر شہید مرد ہیں اور فلاں طاق میں شہید مرد رہتے ہیں اور اُس درخت اور اُس طاق کے پاس جا کر ہر جمعرات کو فاتحہ، شیرینی اور چاول وغیرہ دلاتے ہیں، ہار لٹکاتے ہیں، لوبان سلگاتے ہیں، مرادیں مانگتے ہیں اور ایسا دستور اِس شہر میں بہت جگہ واقع ہے، کیا شہید مردان درختوں اور طاقوں میں رہتے ہیں اور یہ اشخاص حق پر ہیں یا باطل؟‘‘ محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے منع کرتے ہوئے جواب دیا : ’’یہ سب واہیات و خرافات اور جاہلانہ حماقات و بطالات ہیں اِن کا ازالہ لازم ہے۔ ما أنزل اﷲ بها من سلطان ولاحول ولا قوة إلا باﷲ العلي العظيم.‘‘
احمد رضا خان، احکام شريعت، 1 : 32

حلف میں احتیاط کا پہلو 

شرعی حلف اللہ تعالیٰ کے نام کا ہوتا ہے تاہم فقہائے اُمت کے نزدیک کلام اللہ اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر بھی حلف منعقد ہوجاتا ہے اور مستقبل میں کسی اَمر کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھانا اور پھر توڑ دینے کی صورت میں کفّارہ لازم ہو جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی اور کے نام کا حلف اُٹھائے اور یہ عقیدہ رکھے کہ اِس کی حرمت اور حیثیت اُسی طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی یا کلام اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلف کی، تو یہ عقیدہ اصلاح طلب ہے کیونکہ اعتقاداً کسی اور کے نام پر قسم کی حرمت کو اللہ تعالیٰ کی قسم کی مثل جاننا شرک ہے۔ اگر کوئی شخص بوجہ جہالت یا سہواً کسی اور کی قسم اُٹھائے تو وہ شرعی حلف نہیں ہوگا اِس لئے اِس پر کفّارہ لازم نہیں۔

ایصالِ ثواب اور نذر و نیاز کے طریقوں میں احتیاط

نذر و نیاز برائے ایصالِ ثواب اور گیارہویں شریف وغیرہ جیسے مباح مستحب اور مستحسن اُمور کے بارے میں بعض علاقوں میں بہت سی چیزیں بوجہ جہالت رواج پا گئی ہیں جو ازروئے شرع جائز نہیں مثلاً کوئی یہ کہے کہ اگر اُس نے گیارہویں کا دودھ نہ دیا تو اِس کی وجہ سے بھینس یا گائے مر جائے گی، وہ بیمار ہو جائے گی یا رزق کم ہو جائے گا، اولاد کی موت واقع ہو جائے گی، گھر میں نقصان ہو جائے گا۔ اِسی طرح کاروبار اور کھیتی میں بزرگوں کا حصہ یعنی زکوٰۃ اور عشر شرعی وغیرہ سے الگ بزرگوں کی سالانہ شیرینی جو عوام میں مروج ہے یہ شرعاً دینا تو جائز ہے لیکن نہ دینے پر توہم پرستی کو فروغ دینا جائز نہیں ہے۔ یہ تمام باتیں بوجہ جہالت فروغ پا جاتی ہیں اور پھر لوگ اِن کے ساتھ نفع و نقصان کا عقیدہ وابستہ کر لیتے ہیں جو کہ شرک فی العبادت ہے لہٰذا اِن اُمور سے بچنا ضروری ہے۔
ائمہ اہلِ بیت اطہار کے لئے نیاز برائے ایصالِ ثواب مسلمانوں کا معمول ہے۔ اس عمل میں بھی بعض حالتوں میں افراط و تفریط کا عنصر موجود ہے۔ اس مستحب عمل کو بجا لانے والے اگر نذر کی طرح فرض اور واجب سمجھ کر اسے ادا کریں تو یہ بھی احکامِ شریعت سے انحراف ہے۔ اسی طرح اس کے رد عمل میں بعض لوگ اس مستحب عمل کو قطعی حرام اور شرک کے زمرے میں شامل کرکے ختمِ نیاز وغیرہ کا اہتمام کرنے والوں کو مشرک ٹھہراتے ہیں حالانکہ یہ عمل مستحب ہے اس میں حرمت اور شرک کی کوئی علت موجود نہیں ہوتی۔ ایسی نذر و نیاز کے ساتھ بعض لوگ اپنی طرف سے طرح طرح کی شرائط و حدود اور پابندیاں عائد کرتے ہیں مثلاً فلاں شخص کھا سکتا ہے، فلاں عورت نہیں کھا سکتی، گھر سے باہر لے جانا منع ہے وغیرہ وغیرہ۔ اِسی طرح اولیاء اللہ کے نام جانوروں کو منسوب کر کے اُن کا احترام بجا لانا، اُن سے کوئی کام لینا شرعاً حرام سمجھنا اور اُن کی بے حرمتی کو بھی حرام سمجھنا ایسا عقیدہ شرک فی التحریم میں شمار ہوتا ہے لہٰذا عوام پر ایسی باریکیاں واضح کر دینی چاہئیں۔

Wednesday, March 4, 2015

یا رسول اللہ کہنے کا ثبوت

یا محمد کہنے کا ثبوت 
 
حدیث
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنه قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما فَخَدِرَتْ رِجْلُهُ فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، مَا لِرِجْلِکَ؟ قَالَ : اجْتَمَعَ عَصَبُهَا مِنْ هَاهُنَا. فَقُلْتُ : اُدْعُ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، فَانْبَسَطَتْ.
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الْأَدَبِ وَابْنُ السُّنِّيِّ وَاللَّفْظُ لَهُ.
 
: أخرجه البخاري في الأدب المفرد / 335، الرقم : 964، وابن الجعد في المسند، 1 / 369، الرقم : 2539، وابن سعد في الطبقات الکبری، 4 / 154، وابن السني في عمل اليوم والليلة / 141.142، الرقم : 168.170،172.

’’حضرت عبد الرحمن بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے ساتھ تھے کہ ان کا پاؤں سن ہوگیا تو میں نے ان سے عرض کیا : اے ابو عبد الرحمن! آپ کے پاؤں کو کیا ہوا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا : یہاں سے میرے پٹھے کھینچ گئے ہیں تو میں نے عرض کیا : تمام لوگوں میں سے جو ہستی آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہو اس کا ذکر کریں، تو انہوں نے یا محمد (صلی اﷲ علیک وسلم) کا نعرہ بلند کیا (راوی بیان کرتے ہیں کہ) اسی وقت ان کے اعصاب کھل گئے۔‘‘
اِس حدیث کو امام بخاری نے الآدب المفرد میں اور ابن السنی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

  وفي رواية : عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ رضی الله عنه قَالَ : کُنْتُ أَمْشِي مَعْ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما فَخَدِرَتْ رِجْلُهُ، فَجَلَسَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : اُذْکُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : يَا مُحَمَّدَاه، فَقَامَ فَمَشٰی. رَوَاهُ ابْنُ السُّنِّيِّ.

’ایک روایت میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا کہ اُن کی ٹانگ سن ہو گئی اور وہ بیٹھ گئے، پھر اُنہیں کسی نے کہا کہ لوگوں میں سے جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہے، اس کا ذکر کرو. تو انہوں نے کہا : یا محمداہ! (اے محمد صلی اﷲ علیک وسلم!) اُن کا یہ کہنا تھا کہ وہ (ٹھیک ہو گئے اور) اُٹھ کر چلنے لگ گئے۔‘‘
اِس حدیث کو امام ابن السنی نے روایت کیا ہے۔
 
  وفي رواية : خَدِرَتْ رِجْلُ رَجُلٍ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما : اُذْکُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : مُحَّمَدٌ صلی الله عليه وآله وسلم، فَذَهَبَ خَدِرُهُ. رَوَاهُ ابْنُ السُّنِّيِّ.

 وفي رواية : عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حَنَشٍ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما فَخَدِرَتْ رِجْلُهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : اُذْکُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ صلی اﷲ عليک وسلم، فَقَالَ : فَقَامَ فَکَأَنَّمَا نُشِّطَ مِنْ عِقَالٍ. رَوَاهُ ابْنُ السُّنِّيِّ.

’ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما کے پاس بیٹھے کسی شخص کی ٹانگ سن ہو گئی تو اُنہوں نے اس شخص سے فرمایا : لوگوں میں سے جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہے، اس کا ذکر کرو، تو اُس شخص نے یا محمد (صلی اﷲ علیک وسلم) کا نعرہ لگایا تو اُسی وقت اُس کے پاؤں کا سن ہونا جاتا رہا۔‘‘
اِس حدیث کو امام ابن السنی نے روایت کیا ہے۔

’’اور ایک روایت میں حضرت ہیثم بن حنش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اُنہوں نے بیان کیا کہ ہم حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے پاس تھے کہ ایک آدمی کی ٹانگ سن ہوگئی، تو اس سے کسی شخص نے کہا : لوگوں میں سے جو شخص تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اس کا ذکر کر، تو اس نے کہا : یا محمد صلی اﷲ علیک وسلم. راوی بیان کرتے ہیں : پس وہ شخص یوں اُٹھ کھڑا ہوا گویا باندھی ہوئی رسی سے آزاد ہو کر مستعد ہو گیا ہو.‘‘ اِس حدیث کو امام ابن السنی نے روایت کیا ہے۔

حدیث
  عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رضی الله عنه عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رضی الله عنه أَنَّ رَجُـلًا کَانَ يَخْتَلِفُ إِلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضی الله عنه فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَکَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ، وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ، فَلَقِيَ ابْنَ حُنَيْفٍ، فَشَکٰی ذَالِکَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ : اِئْتِ الْمِيْضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ، فَصَلِّ فِيْهِ رَکْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلْ : اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِکَ إِلٰی رَبِّي، فَتَقْضِي لِي حَاجَتِي، وَتَذَکَّرْ حَاجَتَکَ، وَرُحْ حَتّٰی أَرُوْحَ مَعَکَ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ، ثُمَّ أَتٰی بَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ص، فَجَاءَ الْبَوَّابُ حَتّٰی أَخَذَ بِيَدِهِ، فَأَدْخَلَهُ عَلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ص، فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَی الطُّنْفُسَةِ، فَقَالَ : حَاجَتُکَ؟ فَذَکَرَ حَاجَتَهُ وَقَضَاهَا لَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : مَا ذَکَرْتَ حَاجَتَکَ، حَتّٰی کَانَ السَّاعَةَ وَقَالَ : مَا کَانَتْ لَکَ مِنْ حَاجَةٍ فَاذْکُرْهَا، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ، فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ، فَقَالَ لَهُ : جَزَاکَ اﷲُ خَيْرًا، مَا کَانَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِي، وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتّٰی کَلَّمْتَهُ فِيَّ، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ : وَاﷲِ مَا کَلَّمْتُهُ، وَلٰـکِنِّي شَهِدْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، وَأَتَاهُ ضَرِيْرٌ، فَشَکٰی إِلَيْهِ ذِهَابَ بَصَرِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : فَتَصْبِرُ. فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، لَيْسَ لِي قَاءِدٌ وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : اِئْتِ الْمِيْضَأَةَ، فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ صَلِّ رَکْعَتَيْنِ، ثُمَّ اُدْعُ بِهٰذِهِ الدَّعَوَاتِ. قَالَ ابْنُ حُنَيْفٍ : فَوَاﷲِ، مَا تَفَرَّقْنَا، وَطَالَ بِنَا الْحَدِيْثُ، حَتّٰی دَخَلَ عَلَيْنَا الرَّجُلُ کَأَنَّهُ لَمْ يَکُنْ بِهِ ضَرٌّ قَطُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ الْمُنْذِرِيُّ : وَالْحَدِيْثُ صَحِيْحٌ.

  أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 9 / 30، الرقم : 8311، وأيضًا في المعجم الصغير، 1 / 183، الرقم : 508، وأيضًا في الدعائ / 320، الرقم : 1050، والبيهقي في دلائل النبوة، 6 / 167، والمنذري في الترغيب والترهيب،1 / 32، 274، الرقم : 1018، والسبکي في شفاء السقام / 125، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 279، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 201.

’’حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ اپنے چچا حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس کسی ضرورت سے آتا رہا لیکن حضرت عثمان صاُس کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے اور اس کی حاجت پر غور نہ فرماتے تھے۔ وہ شخص (عثمان) بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اپنے مسئلہ کی بابت شکایت کی۔ عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : لوٹا لاؤ اور وضو کرو، اس کے بعد مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھو، پھر (یہ دعا) پڑھو : اے اﷲ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں اور آپ کی طرف اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی رحمت کے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں، یا محمد! میں آپ کے وسیلے سے اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ وہ میری یہ حاجت پوری فرما دے۔ اور پھر اپنی حاجت کو یاد کرو۔ (اور یہ دعا پڑھ کر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ) یہاں تک کہ میں بھی تمہارے ساتھ آ جاؤں۔ پس وہ آدمی گیا اور اس نے وہی کیا جو اسے کہا گیا تھا۔ پھر وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آیا تو دربان نے اس کا ہاتھ تھاما اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا۔ حضرت عثمان صنے اسے اپنے پاس چٹائی پر بٹھایا اور پوچھا : تیری کیا حاجت ہے؟ تو اس نے اپنی حاجت بیان کی اور انہوں نے اسے پورا کر دیا۔ پھر اُنہوں نے اُس سے کہا : تو نے اپنی اس حاجت کے بارے میں آج تک بتایا کیوں نہیں؟ آئندہ تمہاری جو بھی ضرورت ہو مجھے بیان کرو۔ پھر وہ آدمی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سے چلا گیا اور حضرت عثمان بن حنیف سے ملا اور ان سے کہا : اﷲ تعالیٰ آپ کو جزاے خیر عطا فرمائے، اگر آپ میرے مسئلہ کے بارے میں حضرت عثمان سے بات نہ کرتے تو وہ میری حاجت پر غور کرتے نہ میری طرف متوجہ ہوتے۔ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا : بخدا میں نے ان سے تمہارے بارے میں بات نہیں کی۔ بلکہ میں نے اﷲ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ ایک نابینا آدمی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی بینائی ختم ہو جانے کا شکوہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : تو صبر کر. اس نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! میرا کوئی خادم نہیں اور مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوٹا لے کر آؤ اور وضو کرو (اور اسے یہی عمل تلقین فرمایا)، حضرت ابن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا : خدا کی قسم! ہم لوگ نہ تو ابھی مجلس سے دور ہوئے اور نہ ہی ہمارے درمیان لمبی گفتگو ہوئی، حتی کہ وہ آدمی ہمارے پاس (اس حالت میں) آیا کہ گویا اُسے کبھی اندھا پن تھا ہی نہیں۔‘‘
اِس حدیث کو امام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام منذری نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے۔

حدیث

  عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه … وَحَمَلَ خَالِدُ بْنُ وَلِيْدٍ رضی الله عنه حَتّٰی جَاوَزَهُمْ وَسَارَ لِجِبَالِ مُسَيْلَمَةَ وَجَعَلَ يَتَرَقَّبُ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ فَيَقْتُلَهُ ثُمَّ رَجَعَ ثُمَّ وَقَفَ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ وَدَعَا الْبِرَازَ. وَقاَلَ : أَنَا ابْنُ الْوَلِيْدِ الْعُوْدِ، أَنَا ابْنُ عَامِرٍ وَزَيْدٍ. ثُمَّ نَادٰی بِشِعَارِ الْمُسْلِمِيْنَ، وَکَانَ شِعَارُهُم يُوْمَءِذٍ ’’يَا مُحَمَّدَاه‘‘. رَوَاهُ الطَّبَرِيُّ وَابْنُ کَثِيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ.

  أخرجه الطبري في تاريخ الأمم والملوک، 2 / 281، وابن کثير في البداية والنهاية، 6 / 324.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (طویل روایت میں) بیان کرتے ہیں کہ ’’(جنگ یمامہ کے موقع پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ  کی شہادت کے بعد) حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ  نے (اسلامی لشکر کا) عَلم سنبھالا اور لشکر سے گزر کر مسیلمہ کذاب کے مستقر پہاڑ کی طرف چل دیئے اور وہ اِس انتظار میں تھے کہ مسیلمہ تک پہنچ کر اُسے قتل کر دیں. پھر وہ لوٹ آئے اور دونوں لشکروں کے درمیان کھڑے ہو کر دعوتِ مبارزت دی اور بلند آواز سے پکارا : میں ولید کا بیٹا ہوں، میں عامر و زید کا بیٹا ہوں. پھر اُنہوں نے مسلمانوں کا مروجہ نعرہ بلند کیا اور اُن دنوں اُن کا جنگی نعرہ ’’یا محمداہ صلی اﷲ علیک وسلم‘‘ ( یا محمد! مدد فرمائیے) تھا۔‘‘
اِس حدیث کو امام طبری اور ابن کثیر نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Tuesday, March 3, 2015

حیاۃ النبی قرآن و حدیث کی روشنی میں

حیاۃ النبی قرآن و حدیث کی روشنی میں

اَلآيَاتُ الْقُرْآنِيَۃُ

1. فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلاَءِ شَهِيدًاo
(النساء، 4 :  41)



’’پھر اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے حبیب!) ہم آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گےo‘‘

2. وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اﷲِط وَلَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُؤْا اَنْفُسَهُمْ جَآءُ وکَ فَاسْتَغْفَرُوا اﷲَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اﷲَ تَوَّابًا رَّحِيْمًاo
(النساء، 4 : 64)

’اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اوراللہ سے معافی مانگتے اور رسول( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بھی ان کے لیے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتےo‘‘

3. وَمَا کَانَ اﷲُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ط وَمَا کَانَ اﷲُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَo
(الأنفال، 8 : 33)

’’اور (درحقیقت بات یہ ہے کہ) اللہ کی یہ شان نہیں کہ ان پر عذاب فرمائے درآنحالیکہ (اے حبیبِ مکرّم!) آپ بھی ان میں (موجود) ہوں، اور نہ ہی اللہ ایسی حالت میں ان پر عذاب فرمانے والا ہے کہ وہ (اس سے) مغفرت طلب کر رہے ہوںo‘‘

4. وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَى هَـؤُلاَءِ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَo
(النحل، 16 : 89)

’’اور (یہ) وہ دن ہوگا (جب) ہم ہر امت میں انہی میں سے خود ان پر ایک گواہ اٹھائیں گے اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم آپ کو ان سب (امتوں اور پیغمبروں) پر گواہ بنا کر لائیں گے، اور ہم نے آپ پر وہ عظیم کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کا بڑا واضح بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہےo‘‘

5. اَلنَّبِيُ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُه اُمَّهٰـتُهُمْ.
(الأحزاب، 33 : 6)

’’یہ نبیِ (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) مومنوں کے ساتھ اُن کی جانوں سے زیادہ قریب اور حقدار ہیں اور آپ کی ازواجِ (مطہّرات) اُن کی مائیں ہیں۔‘‘

6. وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اﷲِ وَلَآ اَنْ تَنْکِحُؤْا اَزْوَاجَه مِنْم بَعْدِه اَبَدًا ط اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اﷲِ عَظِيْمًاo
(الأحزاب، 33 : 53)

’’اور تمہارے لیے (ہرگز جائز) نہیں کہ تم رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ (جائز) ہے کہ تم اُن کے بعد اَبد تک اُن کی اَزواجِ (مطہّرات) سے نکاح کرو، بے شک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ) ہےo

7. وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اﷲِ اَمْوَاتٌ ط بَلْ اَحْيَآءٌ وَّلٰـکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَo
(البقرة، 2 :  154)

’’اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مُردہ ہیں، (وہ مُردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیںo‘‘

8. وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اﷲِ اَمْوَاتًا ط بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَo فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰهُمُ اﷲُ مِنْ فَضْلِه لا وَيَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُوْنَo
(آل عمران، 3 :  169ـ170)

’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں ہرگز مردہ خیال (بھی) نہ کرنا، بلکہ وہ اپنے ربّ کے حضور زندہ ہیں انہیں (جنت کی نعمتوں کا) رزق دیا جاتا ہےo وہ (حیاتِ جاودانی کی) ان (نعمتوں) پر فرحاں و شاداں رہتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرما رکھی ہیں اور اپنے ان پچھلوں سے بھی جو (تاحال) ان سے نہیں مل سکے (انہیں ایمان اور طاعت کی راہ پر دیکھ کر) خوش ہوتے ہیں کہ ان پر بھی نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گےo‘‘


احادیث نبویہ سے انبیاء کرام کی بعد از موت زندگی کا ثبوت


 اَلأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ


حدیث نمبر 1:

1. عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِکُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيْهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيْهِ قُبِضَ، وَفِيْهِ النَّفْخَةُ، وَفِيْهِ الصَّعْقَةُ، فَأَکْثِرُوْا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيْهِ، فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ مَعْرُوْضَةٌ عَلَيَّ، قَالَ : قَالُوْا : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، کَيْفَ تُعْرَضُ صَـلَاتُنَا عَلَيْکَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ قَالَ : يَقُوْلُوْنَ : بَلِيْتَ. قَالَ : إِنَّ اﷲَ عزوجل حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ.
وفي رواية : فَقَالَ : إِنَّ اﷲَ جَلَّ وَعَـلَا حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَامَنَا.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَاءِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارِمِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَابْنُ حِبَّانَ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الْبُخَارِيِّ. وَقَالَ الْوَادِيَاشِيُّ : صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ. وَقَالَ الْعَسْقَـلَانِيُّ : وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ. وَقَالَ الْعَجْلُوْنِيُّ : رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ. وَقَالَ ابْنُ کَثِيْرٍ : وَقَدْ صَحَّحَ هٰذَا الْحَدِيْثَ بْنُ خُزَيْمَةَ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَالدَّارَ قُطْنِيُّ، وَالنَّوَوِيُّ فِي الْأَذْکَارِ. 
أخرجه أبو داود في السنن،کتاب الصلاة، باب فضل يوم الجمعة وليلة الجمعة،1 / 275، الرقم : 1047، وأيضًا في کتاب الصلاة، باب في الاستغفار، 2 / 88، الرقم : 1531، والنسائي في السنن، کتاب الجمعة، باب بإکثار الصلاة علی النبي صلی الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة، 3 / 91، الرقم : 1374، وأيضًا في السنن الکبری،1 / 519، الرقم : 1666، وابن ماجه في السنن،کتاب إقامة الصلاة، باب في فضل الجمعة،1 / 345، الرقم : 1085، والدارمي في السنن،1 / 445، الرقم : 1572، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 8، الرقم : 16207، وابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 253، الرقم : 8697، وابن خزيمة في الصحيح، 3 / 118، الرقم : 1733.1734، وابن حبان في الصحيح، 3 / 190، الرقم : 910، والحاکم في المستدرک،1 / 413، الرقم : 1029، والبزار في المسند، 8 / 411، الرقم : 3485، والطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 97، الرقم : 4780، وأيضًا في المعجم الکبير،1 / 261، الرقم : 589، والبيهقي في السنن الصغری، 1 / 371، الرقم : 634، وأيضًا في السنن الکبری، 3 / 248، الرقم : 5789، وأيضًا في شعب الإيمان، 3 / 109، الرقم : 3029، والجهضمي في فضل الصلاة علی النبي صلی الله عليه وآله وسلم / 37، الرقم : 22، والوادياشي في تحفة المحتاج، 1 / 524، الرقم : 661، والعسقلاني في فتح الباري، 11 / 370، والعجلوني في کشف الخفائ، 1 / 190، الرقم : 501، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 515.


’’حضرت اَوس بن اَوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک تمہارے دنوں میں سے جمعہ کا دن سب سے بہتر ہے اِس دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن انہوں نے وفات پائی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سخت آواز ظاہر ہو گی. پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ہمارا درود آپ کے وصال کے بعد آپ کو کیسے پیش کیا جائے گا؟ کیا آپ کا جسدِ مبارک خاک میں نہیں مل چکا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (نہیں ایسا نہیں ہے) اللہ تعالیٰ نے زمین پر اَنبیاء کرام (علیھم السلام) کے جسموں کو (کھانا یا کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانا) حرام فرما دیا ہے۔‘‘
’’ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ بزرگ و برتر نے زمین پر حرام قرار دیا ہے کہ وہ ہمارے جسموں کو کھائے۔‘‘
اِس حدیث کو امام ابو داود، نسائی، ابن ماجہ، دارمی، احمد ابن خزیمہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث امام بخاری کی شرائط پر صحیح ہے اور امام وادیاشی نے بھی فرمایا : اِسے امام ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ اور امام عسقلانی نے فرمایا : اِسے امام ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے اور امام عجلونی نے فرمایا : اِسے امام بیہقی نے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ علامہ ابن کثیر نے فرمایا : اِسے امام ابن خزیمہ، ابن حبان، دار قطنی اور نووی نے الاذکار میں صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث نمبر 2:
                 عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم : أَکْثِرُوْا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِنَّهُ مَشْهُوْدٌ تَشْهَدُهُ الْمَـلَاءِکَةُ، وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهُ حَتّٰی يَفْرُغَ مِنْهَا. قَالَ : قُلْتُ : وَبَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ : وَبَعْدَ الْمَوْتِ، إِنَّ اﷲَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ، فَنَبِيُّ اﷲِ حَيٌّ يُرْزَقُ.
رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه بِإِسْنَادٍ صَحِيْحٍ. وَقَالَ الْمُنْذِرِيُّ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ. وَقَالَ الْمُنَاوِيُّ : قَالَ الدَّمِيْرِيُّ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَالَ الْعَجْلُوْنِيُّ : حَسَنٌ.

أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاته ودفنه صلی الله عليه وآله وسلم، 1 / 524، الرقم : 1637، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 328، الرقم : 2582، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 515، 4 / 493، والمناوي في فيض القدير، 2 / 87، والعجلوني في کشف الخفائ،1 / 190، الرقم : 501.

’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، یہ یوم مشہود (یعنی میری بارگاہ میں فرشتوں کی خصوصی حاضری کا دن) ہے۔ اِس دن فرشتے (خصوصی طور پر کثرت سے میری بارگاہ میں) حاضر ہوتے ہیں، جب کوئی شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے تو اُس کے فارغ ہونے تک اُس کا درود میرے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) اور آپ کے وصال کے بعد (کیا ہو گا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں (میری ظاہری) وفات کے بعد بھی (میرے سامنے اسی طرح پیش کیا جائے گا کیوں کہ) اللہ تعالیٰ نے زمین کے لیے انبیائے کرام علیھم السلام کے جسموں کا کھانا حرام کر دیا ہے۔ پس اﷲ تعالیٰ کا نبی زندہ ہوتا ہے اور اُسے رزق بھی عطا کیا جاتا ہے۔‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام منذری نے فرمایا : اِسے امام ابن ماجہ نے جید اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے اور امام مناوی نے بیان کیا کہ امام دمیری نے فرمایا : اِس کے رجال ثقات ہیں۔ امام عجلونی نے بھی اسے حدیثِ حسن کہا ہے۔


حدیث نمبر3:

                     عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : إِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَا مِنْ أَحَدٍ يُسلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اﷲُ عَلَيَّ رُوْحِي حَتّٰی أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّـلَامَ.
 
رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ الْعَسْقَـلَانِيُّ : رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَرُوَاتُهُ ثِقَاتٌ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : وَفِيْهِ عَبْدُ اﷲِ بْنُ يَزِيْدَ الإِسْکَنْدَرَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَمَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ ثِقَةٌ…وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ
.
3 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب المناسک، باب زيارة القبور، 2 / 218، الرقم : 2041، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 527، الرقم : 10867، والطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 262، الرقم : 3092، 9329، والبيهقي في السنن الکبری، 5 / 245، الرقم : 10050، وأيضًا في شعب الإيمان، 2 / 217، الرقم : 5181. 4161، وابن راهويه في المسند، 1 / 453، الرقم : 526، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 162.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (میری اُمت میں سے کوئی شخص) ایسا نہیں جو مجھ پر سلام بھیجے مگر اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر میری روح واپس لوٹا دی ہوئی ہے یہاں تک کہ میں ہر سلام کرنے والے (کو اُس) کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابو داود، اَحمد، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ نیز امام عسقلانی نے فرمایا : اِسے امام ابوداود نے روایت کیا ہے اور اِس کے راوی ثقہ ہیں۔ امام ہیثمی نے بھی فرمایا : اِس کی سند میں عبد اللہ بن یزید الاسکندرانی راوی کو میں نہیں جانتا جبکہ مہدی بن جعفر اور دیگر تمام راوی ثقات ہیں۔


حدیث نمبر 4

                      عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : أَتَيْتُ، (وفي رواية هدّاب : ) مَرَرْتُ عَلٰی مُوْسٰی لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عِنْدَ الْکَثِيْبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَاءِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ.   رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَاءِيُّ.
 
 أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب من فضائل موسی عليه السلام، 4 / 1845، الرقم : 2375، والنسائي في السنن، کتاب قيام الليل وتطوع النهار، باب ذکر صلاة نبي اﷲ موسی عليه السلام، 3 / 215، الرقم : 161.1632، وأيضًا في السنن الکبری، 1 / 419، الرقم : 1328.

’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : معراج کی شب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، (اور ھدّاب کی ایک روایت کے مطابق) سرخ ٹیلے کے پاس سے میرا گزر ہوا (تومیں نے دیکھا کہ) حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قبر میں کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے۔‘
اِس حدیث کو امام مسلم، نسائی، اَحمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔


حدیث نمبر پانچ: 
                    عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُوْرِهِمْ يُصَلُّوْنَ.

رَوَاهُ أَبُوْ يَعْلٰی وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَابْنُ عَدِيٍّ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ. وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : وَأَرْجُوْ أَنَّهُ لَا يَأْسَ بِهِ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُ أَبِي يَعْلٰی ثِقَاتٌ. وَقَالَ الشَّوْکَانِيُّ : فَقَدْ صَحَّحَهُ الْبَيْهَقِيُّ وَأَلَّفَ فِي ذَالِکَ جُزْئًا. وَقَالَ الزُّرْقَانِيُّ : وَجَمَعَ الْبَيْهَقِيُّ کِتَابًا لَطِيْفًا فِي حَيَاةِ الأَنْبِيَاءِ وَرَوَی فِيْهِ بِإِسْنَادٍ صَحِيْحٍ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه مَرْفُوْعًا.

 أخرجه أبو يعلی في المسند، 6 / 147، الرقم : 3425، وابن عدي في الکامل، 2 / 327، الرقم : 460، والديلمي في مسند الفردوس،1 / 119، الرقم : 403، والعسقلاني في فتح الباري، 6 / 487، وأيضًا في لسان الميزان، 2 / 175، 246، الرقم : 787، 1033، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 211، والسيوطي في شرحه علی سنن النسائي، 4 / 110، والعظيم آبادي في عون المعبود، 6 / 19، وقال : وألفت عن ذالک تأليفا سميته : انتباه الأذکياء بحياة الأنبيائ، والمناوي في فيض القدير، 3 / 184، والشوکاني في نيل الأوطار، 5 / 178، والزرقاني في شرحه علی موطأ الإمام مالک، 4 / 357.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انبیاءِ کرام علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں حیات ہیں اور نماز بھی پڑھتے ہیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابو یعلی، ابن عدی، بیہقی اور دیلمی نے ثقہ راویوں سے بیان کیا ہے۔ اور امام ابن عدی نے فرمایا : اِس حدیث کی سند میں کوئی نقص نہیں ہے۔ اور امام ہیثمی نے بھی فرمایا : امام ابو یعلی کے رجال ثقات ہیں۔ اور علامہ شوکانی نے فرمایا : اسے امام بیہقی نے صحیح قرار دیا ہے اور حیاتِ انبیاء علیہم السلام پر انہوں نے ایک جزء (صحیح اَحادیث کی مختصر سی کتاب) بھی تالیف کی ہے۔ اسی طرح امام زرقانی نے بھی فرمایا کہ امام بیہقی نے حیاتِ انبیاء علیہم السلام پر ایک نہایت لطیف کتاب تالیف کی ہے جس میں انہوں نے حضرت اَنس رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایات اِسنادِ صحیح کے ساتھ بیان کی ہیں۔

وقال العسقـلاني في ’’الفتح‘‘ : قَدْ جَمَعَ الْبَيْهَقِيُّ کِتَابًا لَطِيْفًا فِي حَيَاةِ الْأَنْبِيَاءِ فِي قُبُوْرِهِمْ أَوْرَدَ فِيْهِ حَدِيْثَ أَنَسٍ ص : اَلْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُوْرِهِمْ يُصَلُّوْنَ. أَخْرَجَهُ مِنْ طَرِيْقِ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيْرٍ وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيْحِ عَنِ الْمُسْتَلِمِ بْنِ سَعِيْدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ عَنِ الْحَجَّاجِ الْأَسْوَدِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادِ الْبَصْرِيُّ وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِيْنٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْهُ وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا أَبُوْ يَعْلٰی فِي مُسْنَدِهِ مِنْ هٰذَا الْوَجْهِ وَأَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ وَصَحَّحَهُ الْبَيْهَقِيُّ.
ذکره العسقلاني في فتح الباري، 6 / 487.

’’امام عسقلانی فتح الباری میں بیان کرتے ہیں کہ امام بیہقی نے انبیاء کرام علیہم السلام کے اپنی قبروں میں زندہ ہونے کے بارے میں (صحیح اَحادیث پر مشتمل) ایک خوبصورت کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی وارد کی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبور میں (حیاتِ ظاہری کی طرح ہی) زندہ ہوتے ہیں اور صلاۃ بھی ادا کرتے ہیں۔ یہ حدیث اُنہوں نے یحیی بن ابی کثیر کے طریق سے روایت کی ہے اور وہ صحیح حدیث کے راویوں میں سے ہیں۔ اُنہوں نے مستلم بن سعید سے روایت کی اور امام احمد بن حنبل نے بھی انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ امام ابن حبان نے یہ حدیث حجاج اسود سے روایت کی ہے اور وہ ابن ابی زیاد البصری ہیں اور اُنہیں بھی امام اَحمد بن حنبل نے ثقہ قرار دیا ہے۔ امام ابن معین نے بھی حضرت ثابت سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ امام ابو یعلی نے بھی اپنی مسند میں اسی طریق سے یہ حدیث روایت کی ہے اور امام بزار نے بھی اس کی تخریج کی ہے اور امام بیہقی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔‘‘

حدیث نمبر6:

                        عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : فَرَضَ اﷲُ عزوجل عَلٰی أُمَّتِي خَمْسِيْنَ صَـلَاةً، فَرَجَعْتُ بِذَالِکَ، حَتّٰی مَرَرْتُ عَلٰی مُوْسٰی، فَقَالَ : مَا فَرَضَ اﷲُ لَکَ عَلٰی أُمَّتِکَ؟ قُلْتُ : فَرَضَ خَمْسِيْنَ صَـلَاةً، قَالَ : فَارْجِعْ إِلٰی رَبِّکَ، فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِيْقُ ذَالِکَ، فَرَاجَعَنِي فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلٰی مُوْسٰی، قُلْتُ : وَضَعَ شَطْرَهَا، فَقَالَ : رَاجِعْ رَبَّکَ، فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِيْقُ، فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ : اِرْجِعْ إِلٰی رَبِّکَ، فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِيْقُ ذَالِکَ، فَرَاجَعْتُهُ، فَقَالَ : هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُوْنَ، لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ، فَرَجَعْتُ إِلٰی مُوْسٰی، فَقَالَ : رَاجِعْ رَبَّکَ، فَقُلْتُ : اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتّٰی انْتَهٰی بِي إِلٰی سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰی وَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا فِيْهَا حَبَاءِلُ اللُّؤْلُؤِ، وإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْکُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

 أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الصلاة، باب کيف فرضت الصلاة في الإسرائ، 1 / 136، الرقم : 342، وأيضًا في کتاب الأنبيائ، باب ذکر إدريس وهو جد أبي نوح ويقال جد نوح، 3 / 1217، الرقم : 3164، ومسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الإسراء برسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم إلی السماوات وفرض الصلوات، 1 / 148، الرقم : 163.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (شبِ معراج) اللہ تعالیٰ نے میری اُمت پر پچاس نمازیں فرض کیں تو میں ان (نمازوں) کے ساتھ واپس آیا یہاں تک کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے سوال کیا : اللہ تعالیٰ نے آپ کی اُمت کے لیے آپ پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا : اﷲ تعالیٰ نے پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ انہوں نے کہا : اپنے ربّ کی طرف واپس جائیے کیوں کہ آپ کی اُمت اِس (کی ادائیگی) کی طاقت نہیں رکھتی۔ پس انہوں نے مجھے واپس لوٹا دیا۔ (میری درخواست پر) اﷲ تعالیٰ نے ان کا ایک حصہ کم کر دیا۔ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف واپس گیا اور کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک حصہ کم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا : اپنے ربّ کی طرف (پھر) جائیے کیوں کہ آپ کی اُمت میں ان کی (ادائیگی کی) طاقت بھی نہیں ہے۔ پس میں واپس گیا تو اﷲ تعالیٰ نے ان کا ایک حصہ اور کم کر دیا۔ میں ان کی طرف آیا تو انہوں نے پھر کہا : اپنے ربّ کی طرف جائیے کیونکہ آپ کی امت میں ان کی ادائیگی کی طاقت بھی نہیں ہے۔ میں واپس لوٹا تو (اﷲ تعالیٰ نے) فرمایا : یہ (ہیں تو) پانچ (نمازیں) مگر (ثواب کے اعتبار سے) پچاس (کے برابر) ہیں۔ میرے ہاں اَحکامات تبدیل نہیں ہوا کرتے. میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے کہا : اپنے ربّ کی طرف جائیے (اور مزید کمی کے لیے درخواست کیجیے) میں نے کہا : مجھے اب اپنے ربّ سے حیا آتی ہے۔ پھر (جبرائیل علیہ السلام) مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے جسے مختلف رنگوں نے ڈھانپ رکھا تھا، نہیں معلوم کہ وہ کیا ہیں؟ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا جس میں موتیوں کے ہار ہیں اور اس کی مٹی مشک (کی مانند خوشبودار) ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔


حدیث نمبر 7:

                    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ لَقِيْتُ مُوْسٰی قَالَ : فَنَعَتَهُ فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ. قَالَ : مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْءَةَ قَالَ : وَلَقِيْتُ عِيْسٰی فَنَعَتَهُ النَّبيُّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : رَبْعَةٌ أَحْمَرُ کَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيْمَاسٍ يَعْنِي الْحَمَّامَ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيْمَ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

7 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الأنبيائ، باب قول اﷲ تعالی : واذکر في الکتاب مريم، 3 / 1269، الرقم : 3254، ومسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الإسراء برسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم إلی السماوات، 1 / 154، الرقم : 168.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : شبِ معراج میری حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصف یوں بیان فرمایا : وہ دبلے پتلے، دراز قد، گھنگریالے بالوں والے ایسے آدمی ہیں جیسے قبیلہ شنوء ہ کے لوگ. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ملاقات ہوئی. پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کا حلیہ بیان فرمایا کہ یہ درمیانہ قد، سرخ رنگ والے (اور ایسے تروتازہ ہیں) گویا ابھی حمام سے (نہاکر) نکلے ہیں اور میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی ملا اور میں اُن کی ساری اولاد میں سب سے زیادہ اُن سے مشابہ ہوں۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔


حدیث نمبر 8:

                       عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه يَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم : لَيَهْبِطَنَّ عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ حَکَمًا عَدْلًا وَإِمَامًا مُقْسِطًا، وَلَيَسْلُکَنَّ فَجًّا حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ بِنِيَّتِهِمَا، وَلَيَأْتِيَنَّ قَبْرِي حَتّٰی يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَلَأَرُدَّنَّ عَلَيْهِ. يَقُوْلُ أَبُوْ هُرَيْرَةَ : أَي بَنِي أَخِي، إِنْ رَأَيْتُمُوْهُ فَقُوْلُوْا : أَبُوْ هُرَيْرَةَ يُقْرِءُ کَ السَّلَامَ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ عَسَاکِرَ وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

8 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 2 / 651، الرقم : 4162، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 47 / 493، والهندي في کنز العمال، 14 / 146، الرقم : 38851.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام عادل حاکم اور منصف امام کے طور پر ضرور اتریں گے. وہ فوری طور پر حج یا عمرہ یا دونوں کی نیت سے چل پڑیں گے اور میری قبر پر ضرور آئیں گے، مجھے سلام کریں گے اور میں اُنہیں ضرور جواب دوں گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے (راوی سے) فرمایا : اے میرے بھتیجے! اگر آپ کو ان کی زیارت کی سعادت حاصل ہو تو ان سے عرض کرنا کہ ابو ہریرہ نے آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا ہے۔‘
اِس حدیث کو امام حاکم، ابن عساکر اور متقی ہندی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

حدیث نمبر9:

                       عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ، وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ، فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا، فَکُرِبْتُ کُرْبَةً مَا کُرِبْتُ مِثْلَهُ قََطُّ، قَالَ : فَرَفَعَهُ اﷲُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ. مَا يَسْأَلُوْنِي عَنْ شَيئٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ بِهِ. وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَإِذَا مُوْسٰی عليه السلام قَاءِمٌ يُصَلِّي، فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْءَةَ. وَإِِذَا عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ عليهما السلام قَاءِمٌ يُصَلِّي، أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُوْدٍ الثَّقَفِيُّ. وَإِذَا إِبْرَاهِيْمُ عليه السلام قَاءِمٌ يُصَلِّي، أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُکُمْ (يَعْنِي نَفْسَهُ) فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ قَاءِلٌ : يَا مُحَمَّدُ، هٰذَا مَالِکٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ. فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّـلَامِ.      رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائی.


9 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب ذکر المسيح ابن مريم والمسيح الدجال، 1 / 156، الرقم : 178، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 455، الرقم : 11480.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (شبِ معراج) میں نے خود کو حطیم کعبہ میں پایا اور قریش مجھ سے سفرِ معراج کے بارے میں سوالات کر رہے تھے. اُنہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ چیزیں پوچھیں جنہیں میں نے (یاد داشت میں) محفوظ نہیں رکھا تھا جس کی وجہ سے میں اتنا پریشان ہوا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا پریشان نہیں ہوا تھا، تب اﷲ تعالیٰ نے بیت المقدس کو اُٹھا کر میرے سامنے رکھ دیا۔ وہ مجھ سے بیت المقدس کے متعلق جو بھی چیز پوچھتے میں (دیکھ دیکھ کر) انہیں بتاتا چلا گیااور میں نے خود کو انبیاء کی ایک جماعت میں پایا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے، اور وہ قبیلہ شنوء ہ کے لوگوں کی طرح گھنگریالے بالوں والے تھے اور پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے اور عروہ بن مسعود ثقفی اُن سے بہت مشابہ ہیں، اور پھر حضرت ابراہیم عليہ السلام کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے اور تمہارے آقا (یعنی خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ہیں پھر نماز کا وقت آیا، اور میں نے ان سب اَنبیاء علیہم السلام کی امامت کرائی۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو مجھے ایک کہنے والے نے کہا : یہ مالک ہیں جو جہنم کے داروغہ ہیں، انہیں سلام کیجیے۔ پس میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے (مجھ سے) پہلے مجھے سلام کیا۔‘‘
اِسے امام مسلم اور نسائی نے روایت کیا ہے۔


حدیث نمبر10:

                     عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ وَهُوَ يَصِفَ يُوْسُفَ عليه السلام حِيْنَ رَآهُ فِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ قَالَ : رَأَيْتُ رَجُـلًا صُوْرَتُهُ کَصُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ. فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيْلُ، مَنْ هٰذَا؟ قَالَ : هٰذَا أَخُوْکَ يُوْسُفُ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : وَکَانَ اﷲُ قَدْ أَعْطٰی يُوْسُفَ مِنَ الْحُسْنِ وَالْهَيْبَةِ مَا لَمْ يُعْطِ أَحْدًا مِنَ الْعَالَمِيْنَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ حَتّٰی کَانَ يُقَالُ وَاﷲِ، أَعْلَمُ أَنَّهُ أُعْطِيَ نِصْفَ الْحُسْنِ وَقُسِّمَ النِّصْفُ الآخَرُ بَيْنَ النَّاسِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ قُتَيْبَةَ.
 
10 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 2 / 623، الرقم : 4087، وابن قتببة في تأويل مختلف الحديث، 1 / 321.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت یوسف علیہ السلام کے اَوصاف بیان کر رہے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں (معراج کی رات) تیسرے آسمان پر دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے ایک : ایسے شخص کو دیکھا جس کی صورت چودھویں رات کے چاند کی طرح تھی۔ پس میں نے پوچھا : اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے عرض کیا : یہ آپ کے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام ہیں۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : اﷲ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو وہ حسن و رعب عطا کر رکھا تھا جو عالمین میں سے آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کسی کو عطا کیا گیا۔ یہاں تک کہ کہا جاتا تھا کہ اﷲ کی قسم! میں یہ جانتا ہوں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو پورے حسن کا آدھا حصہ اور دوسرا آدھا حصہ (تمام دنیا کے) لوگوں کو عطا ہوا۔‘‘
اِس حدیث کو امام حاکم اور ابن قتیبہ نے روایت کیا ہے۔


حدیث نمبر11:

11. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰی مُوْسَی ابْنِ عِمْرَانَ عليه السلام فِي هٰذَا الْوَادِي مُحْرَمًا بَيْنَ قِطْوَانِيَّتَيْنِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْ يَعْلٰی وَقَالَ الْمُنْذِرِيُّ وَالْهَيْثَمِيُّ : إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

11 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 10 / 142، الرقم : 10255، وأيضًا في المعجم الأوسط، 6 / 308، الرقم : 6487، وأبو یعلی في المسند، 9 / 27، الرقم : 5093، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 118، الرقم : 1740، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 221، وأيضًا، 8 / 204.

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گویا میں (اس وقت بھی) حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو اس وادی میں دو قطوانی چادروں میں حالتِ اِحرام میں دیکھ رہا ہوں۔‘‘
اِس حدیث کو امام طبرانی، ابویعلی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ امام منذری اور ہیثمی نے فرمایا : اس کی اِسناد حسن ہے۔


حدیث نمبر 12:

                        عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَتٰی عَلٰی وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ : مَا هٰذَا؟ قَالُوْا : وَادِي الْأَزْرَقِ. فَقَالَ : کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰی مُوْسَی بْنِ عِمْرَانَ مُهْبِطًا لَهُ خُوَارٌ إِلَی اﷲِ بِالتَّکْبِيْرِ. ثُمَّ أَتٰی عَلٰی ثَنِيَّةٍ فَقَالَ : مَا هٰذِهِ الثَّنِيَّةُ؟ قَالُوْا : ثَنِيَّةُ کَذَا وَکَذَا. فَقَالَ : کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰی يُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی عَلٰی نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ خِطَامُهَا لِيْفٌ وَهُوَ يُلَبِّي وَعَلَيْهِ جُبَّةُ صُوْفٍ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ وَأَبُوْ عَوَانَةَ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ مُسْلِمٍ.

12 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 2 / 373،638، الرقم : 3313، 4123، وابن حبان في الصحيح، 14 / 103، الرقم : 6219، والطبراني في المعجم الکبير، 12 / 159، الرقم : 12756، وأبو نعيم في حلية الأوليائ، 2 / 223، 3 / 96، وأبو عونة في المسند، 2 / 421، الرقم : 3682.

’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیِ اَزرق کی طرف تشریف لائے اور دریافت فرمایا : یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) یہ وادیِ اَزرق ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گویا کہ میں موسیٰ بن عمران علیہ السلام کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس وادی میں اﷲ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے اتر رہے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک پہاڑی راستے کی طرف تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : یہ کون سا پہاڑی راستہ ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یہ فلاں فلاں پہاڑی راستہ ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گویا میں حضرت یونس بن متی علیہ السلام کو سرخ گنگریالے بالوں والی اُونٹنی پر بیٹھا ہوا دیکھ رہا ہوں. اُس اونٹنی کی لگام کھجور کی چھال کی ہے اور آپ تلبیہ کہہ رہے ہیں اور آپ نے اُون کا جبہ زیب تن کیا ہوا ہے۔‘‘
اِس حدیث کو امام حاکم، ابن حبان، ابو نعیم، ابو عوانہ اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث امام مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔

حدیث نمبر13: 
                    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّهُ قَالَ : لَقَدْ سَلَکَ فَجَّ الرَّوْحَاءِ سَبْعُوْنَ نَبِيًّا حُجَّاجًا عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوْفِ، وَلَقَدْ صَلّٰی فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ سَبْعُوْنَ نَبِيًّا.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

13 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 2 / 653، الرقم : 4169، والطبراني في المعجم الکبير، 12 / 474، الرقم : 13525، والبيهقي في السنن الکبری، 5 / 177، الرقم : 9618، والفاکهي في أخبار مکة، 4 / 266، الرقم : 2594، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 297.

’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ روحاء کے راستے پر ستر انبیاء کرام علیہم السلام حج کی غرض سے گزرے ہیں جو اُون کے کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے اور مسجد خیف میں ستر انبیاء علیہم السلام نے نماز ادا کی.‘‘

اس حدیث کو امام حاکم، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا : اس کے رجال ثقہ ہیں۔


حدیث نمبر 14:
 
                            عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : صَلَّٰی فِي الْمَسْجِدِ الْخَيْفِ سَبْعُوْنَ نَبِيًّا مِنْهُمْ مُوْسٰی عليه السلام کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ عِبَاءَ تَانِ قِطْوَانِيَّتَانِ وَهُوَ مُحْرَمٌ عَلٰی بَعِيْرٍ مِنْ إِبِلِ شَنُوَّةَ مَخْطُوْمٌ بِخُطَامِ لِيْفٍ لَهُ ضِفْرَانٍ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ وَالْفَاکِهِيُّ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ
.
14 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 11 / 452، الرقم : 12283، وأبو نعیم في حلية الأوليائ، 2 / 10، وابن عدي في الکامل، 6 / 58، والفاکهي في أخبار مکة، 4 / 266، الرقم : 2593، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 392، الرقم : 3740، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 221، 297.

’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسجدِ خیف میں ستر انبیاء کرام علیہم السلام نے نماز ادا کی جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی شامل تھے، گویا میں (اس وقت بھی) ان کی طرف دیکھ رہا ہوں اور ان پر دو قطوانی چادریں تھیں اور وہ حالتِ احرام میں قبیلہ شنوہ کے اُونٹوں میں سے ایک اونٹ پر سوار تھے جس کی نکیل کھجور کی چھال کی تھی جس کی دو رسیاں تھیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام طبرانی، ابو نعیم اور فاکہی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا : اس کے رجال ثقات ہیں۔


حدیث نمبر 15
                      عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رضي اﷲ عنهما يَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ اﷲَ وَکَّلَ بِقَبْرِي مَلَکًا أَعْطَاهُ أَسْمَاعَ الْخَـلَاءِقِ، فَـلَا يُصَلِّي عَلَيَّ أَحَدٌ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إِلَّا بَلَغَنِي بِاسْمِهِ واسْمِ أَبِيْهِ، هٰذَا فُـلَانُ بْنُ فُـلَانٍ قَدْ صَلّٰی عَلَيْکَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ، وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : فِيْهِ ابْنُ الْحِمْيَرِيِّ لَا أَعْرِفُهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

وروی أبو الشیخ ابن حَيَّانَ وَلَفْظُهُ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ ِﷲِ تَبَارَکَ وَتعَالٰی مَلَکًا أَعْطَاهُ أَسْمَاعَ الْخَـلَاءِقِ کُلِّهِمْ، فَهُوَ قَاءِمٌ عَلٰی قَبْرِي، إِذَا مُتُّ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي صَلّٰی عَلَيَّ صَـلَاةً إِلَّا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيْهِ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، صَلّٰی عَلَيْکَ فُـلَانٌ، فَيُصَلِّي الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلٰی ذَالِکَ الرَّجُلِ بِکُلِّ وَاحِدٍ عَشَرًا.

15 : أخرجه البزار في المسند، 4 / 255، الرقم : 1425، 1426، والبخاري في التاريخ الکبير، 6 / 416، الرقم : 2831، وابن حيان في العظمة، 2 / 762، الرقم : 1، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 162.

’’حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے میری قبر پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہوا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی آوازیں سننے (اور سمجھنے)کی قوت عطاء فرمائی ہے، پس روزِ قیامت تک جو بھی مجھ پر درود پڑھے گا، وہ فرشتہ اس درود پڑھنے والے کا نام اور اس کے والد کا نام مجھے پہنچائے گا، اور عرض کرے گا : یا رسول اﷲ! فلاں بن فلاں نے آپ پر درود بھیجا ہے۔‘‘
اِس حدیث کو امام بزار اور بخاری نے التاریخ الکبیر میں اور منذری نے بھی روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا : اِس کی سند میں ابن حمیری راوی کو میں نہیں جانتا، اِس کے علاوہ تمام رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

’’ابو شیخ ابن حیان کی روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اﷲ تبارک و تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے، جسے اﷲ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی آواز سننے (اور سمجھنے) کی قوت عطا فرمائی ہے، پس وہ فرشتہ میرے وصال کے بعد میری قبر پر قیامت تک کھڑا رہے گا۔ پس میری امت میں سے جو شخص بھی مجھ پر درود بھیجے گا، وہ فرشتہ اس کا نام اور اس کے باپ کا نام لے گا اور کہے گا : یا محمد! (میرے آقا!) فلاں شخص نے آپ کی خدمت میں درود بھیجا ہے۔ پس اﷲ تعالیٰ اس شخص پر ہر ایک درود کے بدلے میں دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔‘‘


حدیث نمبر 16: 

                      عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِءِ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضی الله عنه وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ يُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَهُدَ يَقُوْلُ : قُوْلُوْا : اَلتَّحِيَّاتُ ِﷲِ، الزَّاکِيَّاتُ ِﷲِ الطَّیِبَاتُ الصَّلَوَاتُ ِﷲِ، السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اﷲِ الصَّالِحِيْنَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ.

رَوَاهُ مَالِکٌ وَالشَّافِعِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالطَّحَاوِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ مُسْلِمٍ.

وفي رواية : عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما، عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ فِي التَّشَهُدِ : اَلتَّحِيَّاتُ ِﷲِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّـلَامُ عَلَيْکَ أَيُهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ ….

رَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيُّ وَمَالِکٌ. وَقَالَ الدَّارَ قُطْنِيُّ : هٰذَا إِسْنَادٌ صَحِيْحٌ.

وفي رواية : عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُدَ : اَلتَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الزَّاکِيَّاتُ ِﷲِ، اَلسَّـلَامُ عَلَيْکَ أَيُهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ…فذکر الحديث بنحوه.
رَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيُّ وَالْحَاکِمُ : عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما. وَقَالَ الدَّارَ قُطْنِيُّ : وَهٰذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ حَسَنٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : صِحَّتُهُ عَلٰی شَرْطِ مُسْلِمٍ.

وفي رواية : عَنْ عَاءِشَةَ رضي اﷲ عنها، زَوْجِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَتْ تَقُوْلُ إِذَا تَشَهَدَتْ…فذکره الحديث بنحوه.
رَوَاهُ مَالِکٌ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

16 : أخرجه مالک في الموطأ، کتاب النداء بالصلاة، باب التشهد في الصلاة، 1 / 90.91، الرقم : 203.206، والشافعي في المسند، 1 / 237، وابن أبي شيبة في المصنف،1 / 261، الرقم : 2992، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 202، الرقم : 3067، 3073، والطحاوي في شرح معاني الآثار،1 / 261، والدار قطني في السنن، 1 / 351، الرقم : 6.9، والحاکم في المستدرک، 1 / 398، 399، الرقم : 978.983، والبيهقي في السنن الکبری، 2 / 142، الرقم : 2655.2667، وابن عبد البر في الاستذکار، 1 / 484.

’’حضرت عبد الرحمن بن عبد القاری سے روایت ہے کہ اُنہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر لوگوں کو تشہد سکھاتے ہوئے سنا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یوں کہو : ’’تمام قولی اور فعلی عبادتیں، اور تمام پاکیزہ چیزیں اﷲ تعالیٰ کے لیے ہیں، اور سلامتی ہو آپ پر، اے نبیِ مکرم ! اور اﷲ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکات (کا نزول ہو) اور سلامتی ہو ہم پر اور اﷲ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر. میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اﷲ تعالیٰ کے (پیارے) بندے اور اُس کے رسول ہیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام مالک، شافعی، عبد الرزاق اور طحاوی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث امام مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔

’’اور ایک روایت میں حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تشہد میں یہ پڑھو : تمام قولی اور فعلی عبادتیں اور تمام پاکیزہ کلمات اﷲ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں، اے نبیِ مکّرم! آپ پر سلامتی اور اﷲ تعالیٰ کی رحمت ہو۔۔۔‘‘
اِس حدیث کو امام دار قطنی اور مالک نے روایت کیا ہے۔

’’اور ایک روایت میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں یوں تشہد سکھایا کرتے تھے. تمام قولی فعلی عبادات اور تمام عمدہ کلمات اﷲ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں۔ اے نبیِ محتشم! آپ پر سلامتی، اور اﷲ تعالیٰ کی رحمت اور برکات ہوں۔۔۔الحدیث.‘‘

اِس حدیث کو امام دارقطنی اور حاکم نے حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما سے روایت کیا ہے۔ امام دار قطنی نے فرمایا : یہ سند متصل حسن ہے۔ امام حاکم نے بھی فرمایا : یہ حدیث امام مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔
’’اور ایک روایت میں ہے کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہما تشہد میں مذکورہ بالا دعا ہی پڑھا کرتی تھیں۔‘‘
اِس حدیث کو امام مالک اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔


حدیث نمبر 17:

                          عَنْ عُبَيْدِ اﷲِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيْهِ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَا بُرَيْدَةُ، إِذَا جَلَسْتَ فِي صَـلَاتِکَ، فَـلَا تَتْرُکَنَّ التَّشَهُدَ وَالصَّلَاةَ عَلَيَّ فَإِنَّهَا زَکَاةُ الصَّلَاةِ، وَسَلِّمْ عَلٰی جَمِيْعِ أَنْبِيَاءِ اﷲِ وَرُسُلِهِ، وَسَلِّمْ عَلٰی عِبَادِ اﷲِ الصَّالِحِيْنَ. رَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ.

17 : أخرجه الدار قطني في السنن، 1 / 355، الرقم : 3، والديلمي في مسند الفردوس، 5 / 392، الرقم : 8527، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 132.

’’حضرت عبید اﷲ بن بریدہ اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بریدہ! جب تم اپنی نماز پڑھنے بیٹھو تو تشہد اور مجھ پر درود بھیجنا کبھی ترک نہ کرنا، وہ نماز کی زکاۃ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء اور رسولوں پر اور اُس کے نیک بندوں پر بھی سلام بھیجا کرو.‘‘
اِس حدیث کو امام دار قطنی اور دیلمی نے روایت کیا ہے۔


حدیث نمبر 18:

                           عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ أَوْ أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه يَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم : إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم ثُمَّ لِيَقُلْ : اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ، فَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ : اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ ماجه وَالدَّارِمِيُّ.

وَقَالَ الرَّازِيُّ : قَالَ أَبُوْ زُرْعَةَ : عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ کِـلَاهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم أَصَحُّ. وَقَالَ الْمُنَاوِيُّ : إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ نُدْبًا مُؤَکَّدًا أَوْ وُجُوْبًا عَلَی النَّبِيّ صلی الله عليه وآله وسلم لِأَنَّ الْمَسَاجِدَ مَحَلُّ الذِّکْرِ، وَالسَّـلَامُ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم مِنْهُ.

18 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصلاة، باب فيما يقوله الرجل عند دخوله المسجد، 1 / 126، الرقم : 465، وابن ماجه في السنن، کتاب المساجد والجماعات، باب الدعاء عند دخول المسجد، 1 / 254، الرقم : 772، والدارمي في السنن،1 / 377، الرقم : 1394، وابن حبان في الصحيح، 5 / 397، الرقم : 2048، والرازي في علل الحديث، 1 / 178، الرقم : 509.

’’حضرت ابو حمید الساعدی یا ابو اُسید الانصاری رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اُسے چاہیے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجے پھر کہے : اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب مسجد سے باہر نکلے تو کہے : اے اﷲ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔‘‘
اِس حدیث کو امام ابو داود، ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ امام ابو حاتم رازی نے بیان کیا کہ امام ابو زُرعہ نے فرمایا : حضرت ابو حمید اور ابو اسید رضی اﷲ عنہما دونوں سے مروی روایات صحیح تر ہوتی ہیں۔ اور امام مناوی نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سلام کو محبوب، ضروری اور لازم سمجھتے ہوئے عرض کرنا چاہیے کیوں کہ مساجد ذکر کرنے کی جگہ ہیں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کرنا بھی ذکر الٰہی ہی ہے۔


حدیث نمبر 19:

                         عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ رضي اﷲ عنهما عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ الْکُبْرٰی رضي اﷲ عنها قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوْبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَإِذَا خَرَجَ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوْبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِکَ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ.
وفي رواية : يَقُوْلُ : بِسْمِ اﷲِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ … فذکر الحديث نحوه. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.
وفي رواية : قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ…وَإِذَا خَرَجَ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ … فذکر الحديث بنحوه. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلٰی وَالطَّبَرَانِيُّ.
وفي رواية : قَالَتْ : قَالَ : السَّـلَامُ عَلَيْکَ أَيُهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوْبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رِزْقِکَ.
رَوَاهُ أَبُوْ يَعْلٰی فِي الْمُعْجَمِ.

19 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصلاة، باب ما جاء ما يقول عند دخول المسجد، 2 / 127، الرقم : 314، وابن ماجه في السنن، کتاب المساجد والجماعات، باب الدعاء عند دخول المسجد، 1 / 253، الرقم : 771، وابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 298، الرقم : 3412، وأيضًا، 6 / 96، الرقم : 29764، وعبد الرزاق في المصنف، 1 / 425، الرقم : 1664، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 282.283، الرقم : 26459.26462، وأبو يعلی في المسند، 12 / 121، 199، الرقم : 6754، 6822، وأيضًا في المعجم، 1 / 54، الرقم : 24، والطبراني في المعجم الکبير، 22 / 424، الرقم : 1044، وأيضًا في الدعائ، 1 / 150، الرقم : 423.426.

’’حضرت فاطمہ بنت حسین رضی اﷲ عنہما اپنی دادی جان سیدہ کائنات فاطمہ الکبری سلام اﷲ علیہا سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے وقت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھتے اور اُس کے بعد یہ دعا مانگتے : اے ربّ! میرے لیے میرے (یعنی امت کے) گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، اور باہر تشریف لاتے وقت بھی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھتے اور پھر یوں دعا مانگتے : اے میرے ربّ! میرے لئے میرے (امت کے) گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔‘‘
اِس حدیث کو امام ترمذی، اَحمد اور عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی حدیث حسن ہے۔
’’اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے : اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اﷲ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی سلام ہو اس کے بعد اسی طرح حدیث بیان کی.‘‘ اِسے امام ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔
’’ایک اور روایت میں سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتے ۔۔۔ اور اسی طرح مسجد سے نکلتے وقت بھی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتے۔۔۔اس کے بعد سابقہ حدیث کی دعا بیان کی.‘‘ اِسے امام احمد، ابو یعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔
’’اور ایک روایت میں ہے کہ سیدہ کائنات رضی اﷲ عنہا نے بیان فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرماتے : اے اﷲ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو. اور اﷲ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔‘‘ اِس حدیث کو امام ابو یعلی نے المعجم میں روایت کیا ہے۔


حدیث نمبر 20:

                          عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَلْيَقُلْ : اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَلْيَقُلْ : اَللّٰهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ. وفي رواية : وَلْيَقُلْ : اَللّٰهُمَّ بَاعِدْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالنَّسَاءِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ. وَقَالَ الْکِنَانِيُّ : هٰذَا إِسْنَادٌ صَحِيْحٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

20 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب المساجد والجماعات، باب الدعاء عند دخول المسجد،1 / 254، الرقم : 773، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 27، الرقم : 9918، والبخاري في التاريخ الکبير، 1 / 159، الرقم : 470، والحاکم في المستدرک، 1 / 325، الرقم : 747، والکناني في مصباح الزجاجة، 1 / 97، الرقم : 293.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کرے اور (اس کے بعد) یہ کہے : اے اﷲ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے. اور جب مسجد سے باہر نکلے تو تب بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کرے اور (اس کے بعد) کہے : اے میرے اﷲ! مجھے شیطان مردود سے بچا۔‘‘
’’اور ایک روایت کے مطابق فرمایا : اُسے چاہیے کہ وہ (سلام عرض کرنے کے بعد) کہے : اے اﷲ! مجھے شیطان مردود سے دور رکھ۔‘‘
اِس حدیث کو امام ابن ماجہ، نسائی اور بخاری نے التاریخ الکبیر میں روایت کیا ہے۔ اور امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث امام بخاری اور مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔ امام کنانی نے فرمایا : اِس حدیث کی سند صحیح اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔


حدیث نمبر 21،22،23

                        عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ رضی الله عنه أَنَّ عَبْدَ اﷲِ بْنَ سَـلَامٍ رضی الله عنه کَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَقَالَ : اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَإِذَا خَرَجَ سَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَتَعَوَّذَ مِنَ الشَّيْطَانِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.
 
22. وفي رواية : عَنْ عَلْقَمَةَ رضی الله عنه أَنَّهُ کَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَالَ : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ صَلَّی اﷲُ وَمَـلَاءِکَتُهُ عَلٰی مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم . رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

23. وفي رواية : عَنْ إِبْرَاهِيْمَ رضی الله عنه کَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَالَ : بِسْمِ اﷲِ وَالصَّـلَاةُ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ وَإِذَا دَخَلَ بَيْتًا لَيْسَ فِيْهِ أَحَدٌ قَالَ : اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

21-23 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 298، الرقم : 3416-3418.

’’حضرت محمد بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جب کبھی مسجد میں داخل ہوتے تھے، تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتے اور پھر کہتے : ’’اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘‘ (اے اللہ! مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب مسجد سے باہر نکلتے تو تب بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتے اور پھر شیطان مردود سے پناہ مانگتے (ان کا یہ عمل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد ہمیشہ ہوا کرتا تھا).‘‘
اِس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

’’اور ایک روایت میں حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ مسجد میں داخل ہوتے تھے، تو کہتے تھے : ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ صَلَّی اﷲُ وَمَـلَاءِکَتُهُ عَلٰی مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم .‘‘ (اے نبی محتشم! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکات ہوں، (ہمیشہ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور اس کے فرشتوں کی طرف سے بھی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و برکات ہوں۔‘‘
اِس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

’’اور ایک روایت میں حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ مسجد میں داخل ہوتے تو کہتے : ’’بِسْمِ اﷲِ وَالصَّـلَاةُ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ‘‘ (اللہ تعالیٰ کے نام اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے ساتھ (میں اس مسجد میں داخل ہوتا ہوں). اور جب کسی ایسے گھر میں داخل ہوتے جس میں کوئی بھی نہ ہوتا تو کہتے : ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ‘‘ (آپ پر سلامتی ہو).‘‘
اِس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

 حدیث نمبر 24

عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ قَالَ : أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُـلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلٰی الْقَبْرِ، فَقَالَ : أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُوْ أَيُوْبَ رضی الله عنه فَقَالَ : نَعَمْ، جِئْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ (وفي رواية : وَلَا الْخَدَرَ) سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : لَا تَبْکُوْا عَلٰی الدِّيْنِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ وَلٰـکِنِ ابْکُوْا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

  أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 422، الرقم : 23632، والحاکم في المستدرک، 4 / 560، الرقم : 8571، والطبراني في المعجم الکبير، 4 / 158، الرقم : 3999، وأيضًا في المعجم الأوسط،1 / 94، الرقم : 284، وأيضًا، 9 / 144، الرقم : 9366، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 57 / 249، 250، والسبکي في شفاء السقام / 113، والهيثمي في مجمع الزوائد، 5 / 245، والهندي في کنز العمال، 6 / 88، الرقم : 14967
.
’’حضرت داود بن ابی صالح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز (خلیفہ وقت) مروان آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور پر اپنا چہرہ رکھے ہوئے کھڑا ہے، تو اس آدمی سے کہا : کیا تو جانتا ہے کہ کیا کررہا ہے؟ جب اُس شخص نے مروان کی طرف رُخ کیا تو وہ (صحابی رسول) حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے، اُنہوں نے (جواب میں) فرمایا : ہاں (میں جانتا ہوں کہ) میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا ہوں، کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔ (ایک روایت کے الفاظ ہیں : میں کسی بے حس اور بے جان شے کے پاس نہیں آیا۔) میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے : دین پر مت رؤو جب اس کا ولی اس کا اہل ہو، ہاں دین پر اس وقت رؤو جب اس کا ولی نا اہل ہو.‘‘
اِس حدیث کو امام اَحمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔


حدیث نمبر 25: 
 
 عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُوْنٍ الْأَوْدِيِّ رضی الله عنه قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضی الله عنه قَالَ : يَا عَبْدَ اﷲِ بْنَ عُمَرَ، اِذْهَبْ إِلٰی أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ عَاءِشَةَ رضي اﷲ عنها فَقُلْ : يَقْرَأُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَيْکِ السَّـلَامَ، ثُمَّ سَلْهَا أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيَّ قَالَتْ : کُنْتُ أُرِيْدُهُ لِنَفْسِي فَـلَأُوْثِرَنَّهُ الْيَوْمَ عَلٰی نَفْسِي. فَلَمَّا أَقْبَلَ قَالَ لَهُ : مَا لَدَيْکَ؟ قَالَ : أَذِنَتْ لَکَ يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ، قَالَ : مَا کَانَ شَيءٌ أَهَمَّ إِلَيَّ مِنْ ذَالِکَ الْمَضْجَعِ، فَإِذَا قُبِضْتُ فَاحْمِلُوْنِي ثُمَّ سَلِّمُوْا، ثُمَّ قُلْ : يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. فَإِنْ أَذِنَتْ لِي فَادْفِنُوْنِي وَإِلَّا فَرُدُّوْنِي إِلٰی مَقَابِرِ الْمُسْلِمِيْنَ … الحديث. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.
  
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الجنائز، باب ما جاء في قبر النبي صلی الله عليه وآله وسلم وأبي بکر وعمر، 1 / 469، الرقم : 1328، وأيضًا في کتاب المناقب، باب قصة البيعة والاتفاق علی عثمان بن عفان ص، 3 / 1353.1355، الرقم : 3497، ونحوه ابن أبي شيبة في المصنف، 3 / 34، الرقم : 11858، وأيضًا، 7 / 435. 436، الرقم : 37059، 37074.

’حضرت عمرو بن میمون اَودی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے بیان کیا : میں نے دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (بوقتِ وصال اپنے صاحبزادے سے) فرمایا : اے عبد اﷲ بن عمر! اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے پاس جاو اور عرض کرو کہ عمر بن خطاب آپ کو سلام کہتا ہے اور عرض کرتا ہے کہ مجھے میرے دونوں رفقاء کے ساتھ (روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں) دفن ہونے کی اجازت دی جائے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے جب اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ درخواست پیش کی تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : وہ جگہ میں اپنے لیے رکھنا چاہتی تھی لیکن آج میں انہیں (یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو) اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہوں۔ جب حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما واپس گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت فرمایا : کیا خبر لائے ہو؟ انہوں نے عرض کیا : اے امیر المومنین! اُمّ المومنین نے آپ کے لیے اجازت دے دی ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس (متبرک و مقدس) مقام سے زیادہ میرے لیے (بطور آخری آرام گاہ) کوئی جگہ اہم نہیں تھی۔ سو جب میرا وصال ہو جائے تو مجھے اٹھا کر وہاں لے جانا اور سلام عرض کرنا۔ پھر عرض کرنا (آقا!) عمر بن خطاب اجازت چاہتا ہے۔ اگر مجھے اجازت مل جائے تو وہاں دفن کر دینا ورنہ مجھے عام مسلمانوں کے قبرستان میں لے جا کر دفن کر دینا۔‘‘ اِس حدیث کو امام بخاری اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔


حدیث نمبر 26:
 
  عَنْ عَاءِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : کُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي دُفِنَ فِيْهِ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَأَبِي فَأَضَعُ ثَوْبِي فَأَقُوْلُ : إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ فَوَاﷲِ، مَا دَخَلْتُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُوْدَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَائً مِنْ عُمَرَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ. وَقَالَ الزَّرْکَشِيُّ : صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.

 أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 202، الرقم : 25701، والحاکم في المستدرک، 3 / 63، الرقم : 4402، وأيضًا، 4 / 8، الرقم : 6721، والزرکشي في الإجابة لما استدرکت عائشة / 68، الرقم : 68، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 26، وأيضًا، 9 / 37.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب میں اُس حجرہ مبارک میں داخل ہوتی جہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میرے والد (حضرت ابو بکر صدیق ص) مدفون ہیں تو میں پردے کا کپڑا اُتار دیتی تھی اور کہتی تھی : بے شک وہاں میرے خاوند اور میرے والد ہیں (جن سے پردہ ضروری نہیں ہوتا) لیکن جب وہاں اُن کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی مدفون ہو گئے تو میں وہاں حضرت عمر سے حیاء کی خاطر مکمل حجاب میں داخل ہوتی تھی۔‘‘
اِس حدیث کو امام اَحمد اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ اور امام ہیثمی نے بھی فرمایا : اِس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔ اور امام زرکشی نے بھی فرمایا : یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔


حدیث نمبر 27:
 
  عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی الله عنه قَالَ : لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا بَکْرٍ الْوَفَاةُ أَقْعَدَنِي عِنْدَ رَأْسِهِ وَقَالَ لِي : يَا عَلِيُّ، إِذَا أَنَا مِتُّ فَغَسِّلْنِي بِالْکَفِّ الَّذِي غَسَّلْتَ بِهِ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَحَنِّطُوْنِي وَاذْهَبُوْا بِي إِلَی الْبَيْتِ الَّذِي فِيْهِ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَاسْتَأْذَنُوْا فَإِنْ رَأَيْتُمُ الْبَابَ قَدْ يُفْتَحُ فَادْخُلُوْا بِي وَإِلَّا فَرُدُّوْنِي إِلٰی مَقَابِرِ الْمُسْلِمِيْنَ حَتّٰی يَحْکُمَ اﷲُ بَيْنَ عِبَادِهِ قَالَ : فَغُسِّلَ وَکُفِّنَ وَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ يَأْذُنُ إِلَی الْبَابِ فَقُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، هٰذَا أَبُوْ بَکْرٍ مُسْتَأْذِنٌ فَرَأَيْتُ الْبَابَ قَدْ تَفَتَّحَ وَسَمِعْتُ قَاءِـلًا يَقُوْلُ : أَدْخِلُوا الْحَبِيْبِ إِلٰی حَبِيْبِهِ فَإِنَّ الْحَبِيْبَ إِلَی الْحَبِيْبِ مُشْتَاقٌ. رَوَاهُ بْنُ عَسَاکِرَ وَالسُّيُوْطِيُّ.

  أخرجه ابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق،30 / 436، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 492.

’’حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے بیان فرمایا : جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے اپنے سرہانے بٹھایا اور فرمایا : اے علی! جب میں فوت ہو جاؤں تو آپ خود مجھے اپنے ان ہاتھوں سے غسل دینا جن ہاتھوں سے آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دیا تھا اور مجھے (بھی وہی) خوشبو لگانا اور (میری میت) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اقدس کے پاس لے جانا اگر تم دیکھو کہ (خود بخود) دروازہ کھول دیا گیا ہے تو مجھے وہاں دفن کر دینا ورنہ واپس لا کر عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا اس وقت تک کہ جب اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہ فرما دے (یعنی قیامت نہ آ جائے۔ اور پھر ان کی خواہش کے مطابق ہی) انہیں غسل اور (متبرک خوشبو والا) کفن دیا گیا اور (حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ) سب سے پہلے میں نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر پہنچ کر اجازت طلب کی اور عرض کیا : یارسول اﷲ ! یہ ابو بکر ہیں جو اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ پھر میں نے دیکھا کہ روضہ اَقدس کا دروازہ (خود بخود) کھل گیا اور میں نے سنا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے۔ حبیب کو اس کے حبیب کے ہاں داخل کردو۔ بے شک حبیب بھی ملاقاتِ حبیب کے لیے مشتاق ہے۔‘‘
اِسے امام ابن عساکر اور سیوطی نے روایت کیا ہے۔


 حدیث نمبر 28:

  عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ رضی الله عنه يَقُوْلُ : کَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ بِالْمَدِيْنَةِ إِذْ رَأَی مُنْکَرًا لَا يُمْکِنُهُ أَنْ يُغَيِّرَهُ أَتَی الْقَبْرَ فَقَالَ :

أَيَا قَبْرَ النَّبِيِّ وَصَاحِبَيْهِ
أَلَا يَا غَوْثَنَا لَوْ تَعْلَمُوْنَا
رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ.

  : أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 3 / 495، الرقم : 4177.

’’حضرت ابو اسحاق قرشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہاں مدینہ منورہ میں ہمارے پاس ایک آدمی تھا جب وہ کوئی ایسی برائی دیکھتا جسے وہ اپنے ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا تو وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور کے پاس آتا اور (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں یوں) عرض کرتا :
’’اے (سرورِ دوعالم) صاحب قبر! (اور اپنی قبور میں آرام فرما) آپ کے دونوں رفقاء! اور اے ہمارے مددگار (اور ہمارے آقا و مولا) کاش آپ ہماری (حالتِ زار پر) نظر کرم فرمائیں۔‘‘
اِس حدیث کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔


حدیث نمبر 29:
 
عَنِ الْحَسَنِ رضی الله عنه يَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : افْرِشُوْا لِي قَطِيْفَتِي فِي لَحْدِي، فَإِنَّ الْأَرْضَ لَمْ تُسَلَّطْ عَلٰی أَجْسَادِ الْأَنْبِيَاءِ.
رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ وَالْهِنْدِيُّ.

 أخرجه ابن سعد في الطبقات الکبری، 2 / 299، والهندي في کنز العمال، 15 / 577، الرقم : 42245، والسيوطي في شرحه علی سنن النسائي، 4 / 84، وأيضًا في الخصائص الکبری، 2 / 278.

’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے لیے لحد میں میری مخملیں چادر بچھا دینا، بیشک زمین کو انبیاء کرام علیھم السلام کے اجسام پر تسلط نہیں دیا گیا۔‘‘ اِسے امام ابن سعد اور ہندی نے روایت کیا ہے۔


حدیث نمبر 30:

 
  عَنِ الْحَسَنِ رضی الله عنه يَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَا تَأْکُلُ الْأَرْضُ جَسَدَ مَنْ کَلَّمَهُ رُوْحُ الْقُدُسِ.
رَوَاهُ الْجَهْضَمِيُّ وَابْنُ الْقَيِّمِ، وَقَالَ ابْنُ کَثِيْرٍ : مُرْسَلٌ حَسَنٌ.
وفي رواية عنه : قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ کَلَّمَهُ رُوْحُ الْقُدُسِ، لَمْ يُؤْذَنْ لِلْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ مِنْ لَحْمِهِ. رَوَاهُ الْمَقْرِيْزِيُّ وَالسُّيُوْطِيُّ.

 أخرجه الجهضمي في فضل الصلاة علی النبي صلی الله عليه وآله وسلم، 1 / 38، الرقم : 23، وابن القيّم في جلاء الإفهام / 41، الرقم : 59، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 515، والسخاوي في القول البديع / 169، والمقريزي في إمتاع الأسماع، 10 / 306، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 280، وأيضًا في الدر المنثور، 1 / 87.

’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس سے روح القدس (جبرائیل) نے کلام کیا ہو، زمین اُس کا جسم نہیں کھائے گی.‘‘
اِسے امام جہضمی، ابن القیم نے روایت کیا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے کہا ہے : یہ حدیث مرسل حسن ہے۔
’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے آپ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس سے رُوح القدس نے کلام کیا ہو، زمین کو اُس کا گوشت کھانے کی اِجازت نہیں دی گئی.‘‘ اِسے امام مقریزی اور سیوطی نے روایت کیا ہے۔

قَالَ الْعَـلَّامَةُ الشُّرَنْبَـلَالِيُّ فِي الإِيْضَاحِ فِي فَصْلِ زِيَارَةِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم : وَمِمَّا هُوَ مُقَرَّرٌ عِنْدَ الْمُحَقَّقِيْنَ أَنَّهُ صلی الله عليه وآله وسلم حَيٌّ يُرْزَقُ مُمَتَّعٌ بِجَمِيْعِ الْمَـلَاذِّ وَالْعِبَادَاتِ غَيْرَ أَنَّهُ حُجِبَ عَنْ أَبْصَارِ الْقَاصِرِيْنَ عَنْ شَرِيْفِ الْمَقَامَاتِ.
ذکره الشرنبلالي في نور الإيضاح / 391.

’علامہ شرنبلالی نے اپنی کتاب ’’نور الاِیضاح‘‘ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی فصل قائم کی ہے جس میں اُنہوں نے فرمایا : محققین کے نزدیک یہ اَمر طے شدہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کے لائق) رزق دیا جاتا ہے اور آپ جملہ حلاوتوں اور عبادات سے مستفید ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے اُن لوگوں کی نگاہوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوجھل ہیں جو مقاماتِ عالیہ سے قاصر ہیں۔‘


حدیث نمبر 31:

  عَنْ سَعِيْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيْزِص قَالَ : لَمَّا کَانَ أَيَّامُ الْحَرَّةِ لَمْ يُؤَذَّنْ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم ثَـلَاثًا وَلَمْ يُقَمْ وَلَمْ يَبْرَحْ سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ رضی الله عنه مِنَ الْمَسْجِدِ، وَکَانَ لَا يَعْرِفُ وَقْتَ الصَّـلَاةِ إِلَّا بِهَمْهَمَةٍ يَسْمَعُهَا مِنْ قَبْرِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَ مَعْنَاهُ.
رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالْخَطِيْبُ التَّبْرِيْزِيُّ.

  : أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 56، الرقم : 93، والخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 2 / 400، الرقم : 5951، والسيوطي في شرح سنن ابن ماجه، 1 / 291، الرقم : 4029.

’’حضرت سعید بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ایام حرّہ (جن دنوں یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کروایا تھا) کا واقعہ پیش آیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں تین دن تک آذان اور اقامت نہیں کہی گئی اور حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے (جو کہ جلیل القدر تابعی ہیں اُنہوں نے مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پناہ لی ہوئی تھی اور انہوں نے تین دن تک) مسجد نہیں چھوڑی تھی اور وہ نماز کا وقت نہیں جانتے تھے مگر ایک دھیمی سی آواز کے ذریعے جو وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور سے سنتے تھے۔ پھر انہوں نے اس کا معنی بھی بیان کیا۔‘‘
اِس حدیث کو امام دارمی اور خطیب تبریزی نے روایت کیا ہے۔

   وفي رواية عنه، قَالَ : وَمَا يَأْتِي وَقْتَ صَلَاةٍ إِلَّا سَمِعْتُ الْأَذَانَ مِنَ الْقَبْرِ. رَوَاهُ أَبُوْ نُعَيْمٍ وَالسُّيُوْطِيُّ.

: أخرجه أبو نعيم في دلائل النبوة / 496، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 280، وأيضًا في الحاوي للفتاوی، 2 / 266، والمقريزي في إمتاع الأسماع، 14 / 615، والزرقاني في شرح أيضًا، 7 / 365، والشيخ عبد الحق الدهلوي في جذب القلوب إلی ديار المحبوب / 44.

’اور آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کسی نماز کا وقت بھی ایسا نہیں آیا کہ میں نے (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) قبرِ انور سے اذان کی آواز نہ سنی ہو.‘‘ اِسے امام ابو نعیم اور سیوطی نے روایت کیا ہے۔


حدیث نمبر 32:
 
. وفي رواية عنه قَالَ : فَکُنْتُ إِذَا حَانَتِ الصَّلَاةُ أَسْمَعُ أَذَانًا يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْقَبْرِ الشَّرِيْفِ. رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ.
وفي رواية عنه قَالَ : لَمْ أَزَلْ أَسْمَعُ الْأَذَانَ وَالإِقَامَةَ مِنْ قَبْرِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَيَّامَ الْحَرَّةِ حَتّٰی عَادَ النَّاسُ. رَوَاهُ الْمَقْرِيْزِيُّ وَالسُّيُوْطِيُّ.

: أخرجه ابن سعد في الطبقات الکبری، 5 / 132، والسيوطي في الرسائل التسع / 238.239، وأيضًا في الحاوي للفتاوی، 2 / 266، وأيضًا في الخصائص الکبری، 2 / 281، والمقريزي في إمتاع الأسماع، 14 / 616، والزرقاني في شرح أيضًا، 7 / 365.

’’اور آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ فرمایا : جب نماز کا وقت آتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کی جانب سے اذان کی آواز سنتا تھا۔‘‘
اِسے امام ابن سعد نے روایت کیا ہے۔
’’اور اُن ہی سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ایام حَرّہ کے دوران مسلسل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ اَنور سے اَذان اور اِقامت کی آواز سنتا رہا، یہاں تک کہ لوگوں (کے حالات) معمول کی صورت حال پر واپس لوٹ آئے (یعنی مسجد نبوی میں باقاعدہ آذان و اِقامت شروع ہو گئی).‘‘
اِسے امام مقریزی اور سیوطی نے روایت کیا ہے۔


حدیث نمبر 33: 
 
. عَنْ عُرْوَةَ رضی الله عنه لَمَّا سَقَطَ عَلَيْهِمُ الْحَاءِطُ فِي زَمَانِ الْوَلِيْدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَخَذُوْا فِي بِنَائِهِ فَبَدَتْ لَهُمْ قَدَمٌ فَفَزِعُوْا وَظَنُّوْا أَنَّهَا قَدَمُ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فَمَا وَجَدُوْا أَحَدًا يَعْلَمُ ذَالِکَ حَتّٰی قَالَ لَهُمْ عُرْوَةُ : لَا وَاﷲِ مَا هِيَ قَدَمُ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم مَا هِيَ إِلَّا قَدَمُ عُمَرَ رضي الله عنه.
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ سَعْدٍ.

  أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الجنائز، باب ما جاء في قبر النبي صلی الله عليه وآله وسلم وأبي بکر وعمر، 1 / 468، الرقم : 1326، وابن سعد في الطبقات الکبری، 3 / 368.

’حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ جب ولید بن عبد الملک کے زمانے میں (حجرہ مبارک کی) دیوار اُن (لوگوں) پر گری تو ایک قدم ظاہر ہوا۔ لوگ ڈر گئے اور سمجھے کہ شاید یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قدم مبارک ہے۔ اُنہیں پہچاننے والا کوئی نہ ملا یہاں تک کہ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے (پہچان لیا اور) کہا : خدا کی قسم، یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قدم مبارک نہیں بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قدم ہے۔‘‘
اسے امام بخاری اور ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

وقال المـلا علي القاري في ’’الوسائل‘‘ : إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ أَنَّ قُبُوْرَهُمْ خَالِيَةٌ عَنْ أَجْسَادِهِمْ، وَأَرْوَاحِهِمْ غَيْرَ مُتَعَلَّقَةٍ بِأَجْسَامِهِمْ، لِئَـلَّا يَسْمَعُوْا سَلَامَ مَنْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ، وَکَذَا وَرَدَ أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ يُلَبُّوْنَ وَيَحُجُّوْنَ، فَنَبِيُنَا صلی الله عليه وآله وسلم أَوْلٰی بِهٰذِهِ الْکَرَامَاتِ.

ذکره الملا علي القاري في جمع الوسائل، 2 / 300.

’’ملا علی قاری نے اپنی کتاب ’’جمع الوسائل في شرح الشمائل‘‘ میں فرمایا : بیشک کسی نے یہ نہیں کہا کہ اُن کی قبریں اُن کے جسموں سے خالی ہیں اور اُن کی اَرواح کا اُن کے اجسام سے کوئی تعلق نہیں اور جو کوئی اُن پر سلام پیش کرتا ہے وہ اُسے نہیں سنتے. تو ایسا ہی انبیاء کے بارے میں آیا ہے کہ بیشک انبیاء کرام علیہم السلام تلبیہ کہتے ہیں اور حج کرتے ہیں، اور ہمارے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تو یہ کرامات بدرجہ اَولیٰ ثابت ہیں۔‘

وقال القَسطـلاني في ’’المواهب‘‘ : وَقَدْ ثَبَتَ أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ يَحُجُّوْنَ وَيُلَبُّوْنَ. فَإِنْ قُلْتَ : کَيْفَ يُصَلُّوْنَ وَيُحُجُّوْنَ وَيُلَبُّوْنَ وَهُمْ أَمْوَاتٌ فِي الدَّارِ الآخِرَةِ، وَلَيْسَتْ دَارِ عَمَلٍ؟ فَالْجَوَابُ : أَنَّهُمْ کَالشُّهَدَاءِ، بَلْ أَفْضَلُ مِنْهُمْ، وَالشُّهَدَاءُ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَ، فَـلَا يَبْعُدُ أَنْ يَحُجُّوْا وَيُصَلُّوْا.

ذکره القسطلاني في أيضًا، 2 / 695، والزرقاني في شرح أيضًا، 7 / 365.366.

’’اور امام قسطلانی نے ’’المواھب‘‘ میں فرمایا : بیشک یہ ثابت ہو چکا ہے کہ انبیاءِ کرام علیھم السلام حج کرتے ہیں اور تلبیہ کہتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ وفات پا چکے ہیں اور اُخروی گھر میں ہیں نہ کہ دار العمل میں تو اِس بات کا جواب یہ ہے کہ اُن کا حال شہداء کی طرح بلکہ اُن سے بھی افضل ہے۔ جب شہداء اپنے ربّ کے ہاں زندہ ہیں اور اُنہیں (اُن کی شان کے لائق) رزق دیا جاتا ہے، تو اگر انبیاء کرام علیھم السلام حج کریں اور نماز پڑھیں تو اِس میں کیا بعید ہے!‘‘

وقال العـلامه محمد أنور شاه الکاشميري : وَاعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ تَکَلَّمْنَا مَرَّةً فِي مَعْنٰی حَيَاةِ الشُّهَدَاءِ وَالْأَنْبِيَاءِ عليهم السلام، وَحَاصِلُهُ أَنَّ الْحَيَاةَ بِمَعْنٰی أَفْعَالِ الْحَيَاةِ، وَإِلَّا فَالْأَرْوَاحُ کُلُّهَا أَحْيَاءٌ، وَلَوْ کَانَتْ أَرْوَاحُ الْکُفَّارِ.

ذکره أنور شاه الکشميري في فيض الباري، 3 / 425.

’’علامہ محمد انور شاہ کاشمیری نے کہا : جان لو! ہم پہلے حیاتِ انبیاء اور حیاتِ شہداء کے متعلق بحث کر چکے ہیں، جس کا ماحصل یہ ہے کہ اُن کے زندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ زندوں جیسے اَفعال بجا لاتے ہیں، اور رہ گئیں اَرواح، وہ تو تمام کی تمام (برزخ میں) زندہ ہیں اگرچہ وہ کافروں کی اَرواح ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘