Featured Post

عقائد میں احتیاط کے تقاضے

عقائد میں احتیاط کے تقاضے 1 : یا محمد یا رسول اللہ کہنا شرک نہیں 2:  ایک شبہ اور اس کا ازالہ 3: اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری اور دعا ...

Saturday, February 24, 2018

جہاد فی سبیل اللہ کا بیان حصہ اول

 فہرست مضمون1: فرض کفایہ یا اقدامی جہاد
2: فرض کفایہ کی شرائط
3: فرض عین یا دفاعی جہاد
4: قیدیوں کو چھڑوانا


جہاد فی سبیل اللہ کی اقسام و احکام


جہاد فی سبیل اللہ کی دو اقسام فقہا اور سلف نے یہ بیان کی ہیں:

۔فرضِ کفایہ یا اقدامی جہاد

2۔ فرضِ عین یا دفاعی جہاد

فرضِ کفایہ یا اقدامی جہاد کے معنی اور  اس کا شرعی حکم

اقدامی جہاد جس کو ’’جہاد الطلب ‘‘ بھی کہاجاتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ

 ’’طلب الکفار فی بلادھم‘‘،
یعنی خود جنگ کی ابتداء کر تے ہوئے کفار کے علاقے میں گھس کر ان پر حملہ کرنا ،جب کہ وہ مسلمانوں کے خلاف قتال کے لئے تیاری بھی نہ کررہے ہوں ۔ایسے حالات میں جہاد فرضِ کفایہ ہوتا ہے،جس کی ادائیگی کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ 
(۱) سرحدوں پر اہل ایمان کی اتنی تعداد ہر وقت موجود رہے جو سرزمین اسلام کے دفاع اور اللہ کے دشمنوں پر دہشت بٹھانے کے لئے کافی ہو۔
(۲) سال میں کم از کم ایک مرتبہ مسلمان فوج کو کفار کے خلاف لڑنے کے لئے ضرور بھیجا جائے جبکہ کفار کا مسلمانوں کے خلاف کوئی لڑنے کا کوئی ارادہ بھی نہ ہو۔
لہٰذا مسلمانوں کے امام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سال میں ایک یا دو مرتبہ ’’دار الحرب ‘‘ کی سمت لشکر روانہ کرے اور رعایا کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اما م کے ساتھ تعاون کرے ۔لیکن اگر امام کسی لشکر کو نہیں بھیجتا تو گناہ کا بوجھ اسی پر ہوگا۔ 
(حاشیة امام ابن عابدین الشامی :۳/۱۳۸۔)
اسی طرح فقہاء کرام سال میں ایک مرتبہ لشکر بھیجنے کے مسئلے کو ’’جزیے ‘‘کے مسئلے پر قیاس کرتے ہیں۔علمائے اصول فرماتے ہیں


’’الجھاد دعوة قھریة فتجب اقامة بقدر الامکان حتی لایبقی الامسلم او مسالم‘

’’جہاد قوت وغلبہ کے ذریعے دعوت پھیلانے کا نام ہے ۔پس جہاد کو استطاعت بھر قائم کرنا فر ض ہے یہاں تک کہ کوئی ایسا شخص باقی نہ رہے جو مسلمان نہ ہویا پھر مسلمانوں سے مصالحت (یعنی جزیہ دینے پر ) آمادہ نہ ہوچکاہو۔‘‘ 

(حاشیة الشروانی وابن القاسم علی تحفة 
المحتاج علی المنھاج :۹/۲۱۳۔)

’ اقدامی جہاد ‘‘ کی چند شرائط          
 فقہائےکرام نے بیان کی ہیں جو درجِ ذیل ہیں 
(۱) سرپرست کی اجازت ہو۔
(۲)بعض کے ہاں طاقت کا توازن ہو۔
(۳)امیرِ عام ہو۔
(۴)دعوت الی الاسلام ہو۔
یاد رہے جہاد جس’’دعوت‘‘پر موقوف ہے اس کے تین جملے ہیں :
(۱) اسلام قبول کرلو
(۲)جزیہ دو ،اگر نہیں
(۳)تو قتال کے لئے تیار ہوجاؤ۔

رسول الملاحم،حضرت محمدﷺ کی دعوت کیا تھی ؟

((امرت ان اقا تل الناس حتیٰ یقولوا:لاالہ الا اللّٰہ فقد عصم منی نفسہ ومالہ الا بحقہ ،وحسابہ علی اللّٰہ )) 

’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کرو کہ وہ لاالہ الا اللہ کہیں۔پس جس نے لاالہ الا اللہ کہہ دیا تو اس نے اپنے جان ومال کو مجھ سے بچالیا،مگر کسی حق کے بدل ۔اور اس کا حساب اللہ پر رہے گا‘‘۔
(صحیح البخاری،کتاب الجھاد۔)


اقدامی جہاد: کی بدولت وہ کافر جو مسلمانوں کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتے ہوں دب جاتے ہیں اور ان کے دشمن خوف زدہ اور مرعوب ہو کر اسلام کے خلاف سازشیں نہیں کرتے اس لئے کافروں کو مرعوب رکھنے اور انہیں اپنے غلط عزائم کی تکمیل سے روکنے اور دعوت اسلام کودنیا کے ایک ایک چپے تک پہنچانے اور دعوت کے راستے سے رکاوٹیں ہٹانے کے لئے اقدامی جہاد فرض کفایہ ہے۔ اگر کچھ مسلمان یہ عمل کرتے ہیں تو سب کی طرف سے کافی ہے لیکن اگر کوئی بھی نہ کرے تو سب گناہ گار ہونگے۔
نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا اکثر جہاد اقدامی تھا۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو اقدامی جہاد کی تلقین فرمائی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اقدامی جہاد ہوتا رہے تو دفاعی کی ضرورت ہی پیش نہ آئے لیکن جب مسلمان اقدامی جہاد کے فریضے غفلت کرتے ہیں تو انہیں دفاعی جہاد پر مجبور ہونا پڑتا ہے جیسا کہ اس دور میں ہو رہاہے۔یہ بات بھی  ذہن میں رہے کہ علمائے اصول کا یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ’’فرض کفایہ ‘‘مقرر مدت میں ادا نہ کیا جائے تو وہ ’’فرض عین ‘‘ہوجاتا ہے ،جیسے نمازِ جنازہ فرضِ کفایہ ہے لیکن اگر مقررہ مدت میں کچھ لوگ اسے ادانہ کریں تو پھر وہ تمام مسلمانوں پر فرضِ عین ہوجاتی ہے جب تک کہ کچھ لوگ اُس کو ادانہ کرلیں۔

دفاعی جہاد جس کو ’’جہاد الدفع‘‘ بھی کہتے ہیں ،اس سے مراد((دفع الکفار من بلادنا))’’کفار کو مسلمانوں کے علاقوں سے باہر نکالنے کے لئے جہاد۔دفاعی جہاد فرض عین، بلکہ’’ اہم ترین فرض عین ‘‘ہے ۔چار صورتیں ایسی ہیں جن میں دفاعی جہاد تعین کے ساتھ ہر ایک مسلمان پر فرض ہوجاتا ہے

’اذا دخل الکفار بلدة من بلاد المسلمین ‘‘

’’جب کفار مسلمانوں کے کسی بھی علاقے میں گھس آئیں ‘‘۔

موجودہ دور کے کچھ دانشور حضرات جو کہ’’ریسرچ اور تحقیق‘‘کے شعبے سے وابستہ ہونے کے دعویدار ہیں ،اپنی تلبیسی استدلال کے ذریعے یہ بات عامۃ المسلمین میں پھیلارہے ہیں کہ جہاد اگر ’’فرض عین ‘‘ہوبھی جائے تو وہ تمام مسلمانوں پر کبھی ’’فرض عین ‘‘نہیں ہوتا بلکہ اس کی ادائیگی صرف مسلمان حکمران اور ان کی افواج پرفرض ہے ،عام مسلمانوں کی تو صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف تقریرو تحریر،پرنٹ میڈیا اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن سیاسی و احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے ذریعے دباؤڈالیں مگر خود اس جہاد میں شریک ہونا اُن پر فرض نہیں ۔اسی طرح یہ ریسرچ اور تحقیق کے دعوے دار جہاد کے فرض عین کو صرف اُن مصنوعی لکیروں تک محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں جوکہ معاہدہ سائیکس پیکونے ہمارے لئے کھینچی تھیں یا جان انتون نامی برطانوی یا کسی اور فرانسیسی کافر نے جن کا تعین کیا تھا!لیکن ان مفکرین کے ان تلبیسی استدلال اور تاویلات کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں ۔عامۃ المسلمین کے لئے ان’’آئمة المضلّین‘‘سے دور رہنے میں ہی عافیت ہے۔



چنانچہ اب ہم کچھ احادیث مبارکہ دیکھیں گے اور اس ضمن میں یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مسلمانوں کے سلف و صالحین و فقہاءکرام نے جہاد کے 

فرضِ عین ہونے کو کیسے سمجھا ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کابھائی ہے ،اس لئے نہ تو خود اس پر زیادتی کرے،اور نہ دوسروں کا نشانہ ٔ ظلم بننے کیلئے بے یارومددگار نہیں چھوڑدے۔‘‘
 (بخاری۔مسلم۔)
جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان بندے
کوکسی ایسے موقع پر بے یارومددگار چھوڑ دے گا ،جس میں اس کی عزت پر حملہ ہو ،اور اس کی آبرو اُتاری جارہی ہو ،تو اللہ تعالیٰ اس کوبھی ایسی جگہ اپنی مدد سے محروم رکھے گا جہا ں وہ اس کی مدد کا خواہش مند ہوگا ۔
(سنن ابی داؤد۔)
امام ابن تیمیہ




:)
 ﷫فرماتے ہیں


’’وأما قتال الدفع فھو اشد انواع دفع الصائل عن الحرمة والدین فواجب اجماعا،فالعدو الصائل الذی یفسد الدین وا لدنیا لاشیئ أوجب بعد الایمان من دفعہ،فلا یشترط لہ شرط(کلزاد والراحة)بل یدفع بحسب الامکان ،وقد نص علی ذلک العلماء ،أصحابنا و غیرھم۔


’’اور جہاں تک بات ہے ’’دفاعی قتا ل‘‘ کی تو حرمتوں اور دین پر حملہ آور دشمن کو پچھاڑنے کے لئے یہ قتا ل کی اہم ترین قسم ہے اور اسی لئے اس کے فرض ہونے پر امت کا اجماع ہے ۔ایمان لانے کے بعد سب سے’’اہم ترین فریضہ‘‘دین و دنیا کو برباد کرنے والے حملہ آور دشمن کو پچھاڑنا ہے ۔اس کی فرضیت کے لئے کوئی شرائط نہیں (مثلاً زادِراہ اور سواری موجود ہونے کی شرط بھی ساقط ہوجاتی ہے)بلکہ جس طرح بھی ہو دشمن کو پچھاڑا جائے گا ۔یہ بات علماءنے صراحتاً کہی ہے ،خواہ ہمارے مذہب ِ فقہی کے علماء ہوں ،یا دیگر فقہی مذاہب کے‘‘۔
(الفتاوی الکبری ۴/۵۲۰۔)

امام ابن عابدین شامی ﷫فرماتے ہیں کہ
’اگر دشمن کسی بھی اسلامی سرحد پر حملہ آور ہوجائے تو (وہاں بسنے والوں پر )جہادفرضِ عین ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح ان کے قرب وجوار میں بسنے والے پر بھی جہاد فرضِ عین ہوجاتا ہے۔البتہ جولوگ ان سے پیچھے ،دشمن سے فاصلے پر بستے ہوں ،تو جب تک ان کی ضرورت نہ پڑجائے،مثلاً :جس علاقے پر حملہ ہوا ہے اس کے قرب وجوار میں رہنے والے لوگ دشمن کے خلاف مزاحمت کرنے میں بے بس ہوجائیں،یا بے بس تو نہ ہوں لیکن اپنی سستی کی وجہ سے جہاد نہ کریں ،تو ایسی حالت میں ان کے گرد بسنے والوں پر بھی جہاد ،نماز اور روزے کی طرح ’’فرضِ عین ‘‘ہوجاتا ہے اور اسے ترک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔پھر فرضیت کا یہ دائرہ اس کے بعد اور پھر اس کے بعد والوں تک حسب ضرورت پھیلتا جاتا ہے یہاں تک کہ اسی تدریج سے بڑھتے ہوئے ایک وقت مشرق و مغرب میں بسنے والے ہر مسلمان پر جہاد فرض ہوجاتا ہے‘‘۔
 (حاشیة ابن عابدین :۳/۲۳۸۔)
امام ابن تیمیہ ﷫فرماتے  ہیں کہ
پس اگر دشمن مسلمانوں پر حملے کا ارادہ کرے تو اسے دفع کرنا سب پر فرض ہوگا ، اُن پر بھی جو حملے کا ’’ہدف‘‘ ہو اور اُن پر بھی جو حملے کو ہدف نہ ہوں،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ 


اور وہ اگر دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے‘‘۔
(الانفال:۷۲۔)

اور جیسا کہ نبی ﷺ نے بھی (کئی احادیث مبارکہ میں )مسلمانوں کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے ۔یہ حکم سب کے لئے ہے ،خواہ کوئی باقاعدہ تنخواہ دار فوجی ہو یا عام مسلمان ،ہر ایک پر حسب استطاعت جان ،مال سے دفاعی جہاد کرنا فرض ہے ،چاہے (افراد اور اسلحہ کی )قلت ہو یا کثرت ،سواری میسر ہویا پیدل ہی نکلنا پڑے۔بالکل اسی طرح جیسے غزوۂ خندق کے موقع پر جب دشمن نے مسلمانوں کا رُخ کیا تو اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت نہیں دی‘‘۔ 
(مجموع الفتاویٰ :۲۸/۳۵۸۔)

مسلمانوں کے تمام علاقوں کو ایک ہی  ملک‘‘قرار دیتے ہوئے امام ابن تیمیہ﷫ 
فرماتے ہیں
جب دشمن اسلامی سرزمین میں گھس آئے تو بلا شبہ اسے نکال کر باہر کرنا قریبی آبادیوں پر،اور اگر وہ نہ کرسکیں تو اس کے بعد والی قریبی آبادیوں پر ’’فرض‘‘ ہوجاتا ہے کیونکہ مسلمانوں کے تمام علاقوں کی حیثیت دراصل ایک ہی ’’ملک ‘‘ کی سی ہے۔ایسی حالت میں والد اور قرض خواہوں کی اجازت کے بغیر نکلنا فرض ہوجاتا ہے‘‘۔ 
(الفتاوی الکبریٰ :۴/۶۰۸۔)
امام عبداللہ عزام شہید نے اپنے مشہور فتوے میں فرمایا

اتفق السلف والخلف وجمیع الفقھاء والمحدثین فی جمیع العصور الاسلامیة أنہ:اذا اعتدی علی شبر من أراضی المسلمین أصبح الجھاد فرض عین علی کل مسلم ومسلمة ،بحیث یخرج الولد دون اذن والدہ والمرأة دون اذن زوجھا۔


تمام سلف و خلف اور اسلامی تاریخ کے ہر دور میں تمام فقہاء اور محدثین اس بات پر متفق رہے ہیں کہ
اگر مسلمانوں کے سرزمین کے کسی گز بھر حصے پر بھی حملہ ہو،تو جہاد ہر مسلمان مردو عورت پر ’’فرضِ عین‘‘ہوجاتا ہے۔ایسی صورت میں بیٹا باپ کی اور عورت 
شوہر کی اجازت کے بغیر نکلیں گے‘‘۔

مقدمہ از ’’ایمان کے بعد اہم ترین فرضِ 
عین ‘‘ص:۵۴۔
امام ابوبکر جصاص فرماتے ہیں 
’’اور تمام مسلمانوں کے اعتقاد میں یقینی طور پر یہ بات ہے کہ’’ دارالاسلام ‘‘کی سرحدوں پر رہنے والے جب دشمن سے خوف زدہ ہوں اور دشمن کے مقابلے کی طاقت نہ رکھتے ہوں اور اپنے شہروں ،جانوں اور اہل خانہ کے بارے میں خوف کا شکار ہوں تو تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ ان کی مدد کے لئے اتنے لوگ نکلیں کہ جو دشمن سے دفاع کے لئے کافی ہوں اور یہ ایسی بات ہے جس کے بارے میں امت میں کوئی اختلاف نہیں ۔اس لئے کہ اس وقت کسی بھی مسلمان کا یہ قول نہیں ہوتا کہ ان کی مدد سے کنارہ کشی حلال ہے تاکہ کفار مسلمانوں کے خون اور ان کے بچوں کو قید کرنے کو حلال سمجھنے لگیں‘‘۔ 
(احکام القرآن:۴/۳۲۱۔)
درجِ بالا احادیث اورفقہا و سلف کے فتاویٰ و اقوال اور آخر میں امام جصاص نے امت کے اجماع واتفاق سے یہ فتویٰ جاری کیا کہ کفار سے خوف ہو اور خوف زدہ علاقے کے باشندے قوت و طاقت اور وسائل میں مقابلے کے لئے کافی نہ ہوں تو پوری امت پر ان سے تعاون اور دشمن سے ان کا دفاع فرض ہے۔
اب جبکہ بات ’’خوف ‘‘تک نہیں رہی بلکہ عملاً دنیا بھر کے کافر مسلمانوں کے خون ،مال،عزت اور اولاد سب کو مباح سمجھے ہوئے ہیں اور تختۂ مشق بنائے ہوئے ہیں تو ایسے وقت میں کیا جہاد کو ’’فرضِ کفایہ ‘‘ قرار دینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس فریضہ کی ادائیگی سے منہ موڑنے کے مترادف نہیں؟؟

’’اذا استنفر الامام افراداًأو قوماًوجب علیھم النفیر‘‘

’’جب امام کچھ افراد یا کسی قوم سے جہاد کے لئے نکلنے کا مطالبہ کرے ،تو ان سب پر فرض ہوجاتا ہے کہ نکلیں۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((اِذَااسُتَنْفَرْتُمْ فَانْفِرُوْا)) 

’’جب تم سے جہاد میں نکلنے کے لئے کہا جائے تونکل جاؤ‘‘۔

(صحیح بخاری:کتاب الجہاد والسیر:وجوب النفیر وما یجب من الجھاد والنیة۔)
جب مسلمانوں سے نکلنے کا مطالبہ ہوتو اس حکم کو شریعت کی اصطلاح میں ’’نفیر عام ‘‘کہا جاتا ہے اور یہ دو صورتوں میں فرض ہوجاتا ہے:
(۱) جب امام جہاد کے لئے پکارے یا
(۲) جب مسلمانوں کو مدد کی ضرورت پڑجائے ،خواہ کوئی پکارے یا نہ پکارے۔
اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ’موطا امام مالک ‘‘کی شرح میں لکھتے ہیں :
’’یہ ضروری نہیں کہ کوئی خاص شخص مسلمانوں کو یہ کہہ کر پکارے کہ آؤ جہاد کرو۔مقصود یہ ہے کہ ایسی حالت پیدا ہوجائے جو ’’نفیر‘‘ کا تقاضہ کررہی ہو۔پس جب کافر وں نے بلادِ اسلامیہ (پر حملے کا )قصد کیا اور مسلمانوں اورکافروں میں لڑائی شروع ہوگئی تو جہاد ’’فرض ‘‘ہوگیا،اور جب دشمنوں کی طاقت ان ممالک کے مسلمانوں سے زیادہ قوی ہوئی اور مسلمانوں کی شکست کا خوف ہوا،تو یکے بعد دیگرے تمام مسلمانانِ عالم پر جہاد فرض ہوگیا ،خواہ کوئی پکارے یا نہ پکارے ۔یہی حال تما م فرائض کا ہے ۔نماز کا جب وقت آجائے تو خواہ مؤ ذن کی صدائے حی علی الصلوٰۃ سنائی دے یا نہ دے ،وقت کا آنا وجوب کے لئے کافی ہوتا ہے‘‘۔
اس مسئلے کو مزید واضح کرتے ہوئے
 امام ابن العربی فرماتے ہیں
ایسے حالات بھی پیدا ہوسکتے ہیں جب ’’نفیرِ عام‘‘(یعنی ہر ایک کا نکلنا)فرض ہوجائے۔لہٰذا دشمن جب مسلمانوں کی کسی سرزمین پر حملہ آور ہوں یا ان کے کسی علاقے کو گھیر لے توجہاد ’’تعین ‘‘کے ساتھ ہر ایک پر فرض ہوجاتا ہے اور تمام لوگوں کے لئے جہاد کرنا اور اس کی خاطر گھروں سے نکلنا لازم ہوجاتا ہے ۔ایسے میں اگر وہ ادائیگی ٔ فرض میں کوتا ہی کریں گے تو گناہ گار ہوں گے۔پس اگر نفیرِ عام کا حکم اس وجہ سے ہوکہ دشمن ہمارے کسی علاقے پر قبضہ کرلے یا مسلمانوں کو پکڑ کر قیدی بنالے تو سب پر جہاد فرض ہوجاتا ہے کہ وجۂ جہاد کے لئے نکلیں،اور ہر حال میں نکلیں ،خواہ ہلکے ہو یا بوجھل،سوار ہوں یا پیدل ،غلام ہو یا آزاد.جس کے والد زندہ ہوں وہ ان کی اجازت کے بغیر نکلے اور جس کے والد فوت ہوچکے وہ بھی نکلے (اور جہاد کرتا رہے)یہاں تک کہ اللہ کا دین غالب آجائے ،مسلمانوں کی سرزمین سے دشمن کا شر دور ہوجائے ،اسلامی سرحدیں محفوظ ہوجائیں ،دشمن رسوا ہوجائے ،سارے مسلمان قیدی آزاد ہوجائیں………اور اس بارے میں ان علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔
لیکن (سوال یہ ہے کہ)اگر سب لوگ ہی جہا د چھوڑ کر بیٹھے رہیں تو اکیلا بندہ کیا کرے؟اسے چاہیے کہ وہ کوئی قیدی تلاش کرے اورپیسے دے کر آزاد کرائے ،اور اگر قدرت رکھتا ہو تو اکیلا ہی قتال کرے اور اگر اس کی بھی قدرت نہ رکھتا ہو تو کسی مجاہد کوتیار کرے اور اسے سامان فراہم کرے‘‘۔
 (احکام القرآن:۲/۹۵۴۔)
امام ابن قدامہ بھی فرماتے ہیں:

’’فان عدم الامام لم یؤخر الجھاد لأ ن مصلحتہ تفوت بتأ خیرہ‘‘ 

’’پس امام کی عدم موجودگی کی وجہ سے جہاد مؤخر نہ ہوگا ،کیونکہ تاخیر کرنے سے جہاد کی مصلحت فوت ہوجائے گی‘‘۔
(المغنی :۸/۲۵۳۔)

’’اذا أسر الکفار مجموعة من المسلمین‘‘

’’جب کفار کچھ مسلمانوں کو قید کرلیں ‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((فُکُوْ الْعَانِیْ)) 

’’قیدیوں کو رہا کرواؤ‘‘(بخاری۔)
امام قرطبی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’قیدیوں کو چھڑانا مسلمانوں پر واجب ہے،چاہے قتال کے ذریعے چھڑائیں یا اموال خرچ کرکے چھڑائیں ،اور مال کے ذریعے چھڑانا زیادہ واجب ہے کیونکہ مال خرچ کرنا اپنی جانیں کھپانے سے کم تر اور زیادہ آسان ہے‘‘۔
 (تفسیر القرطبی،سورة النساء: ۷۵۔)
امام المجاہدین عبد اللہ بن مبارک اپنے اشعار میں فرماتے ہیں :

کیف القرار و کیف أ مسلم والمسلمات مع العدوالمعتدی 

قرار کہاں ہے ؟اور ایک مسلمان پرسکون کیسے ہوسکتا ہے جب کہ مسلمان عورتیں سرکش دشمن کی قید میں ہیں۔

الضاربات خدودھن برنة الداعیات نبیھن محمد

جو چیخ وپکار کے ساتھ اپنے رخسار پیٹتی ہیں اور اپنے نبی محمد ﷺ کو پکار تی ہیں ۔

القائلات اذا خشین فضیحة جھدالمقالة لیتنا لم نولد

ذلت و رسوائی کے خوف سے وہ سخت ترین بات کہتی ہیں کہ اے کاش!ہم پید اہی نہ ہوتیں۔

مانستطیع ومالھا من حیلة الا التستر من اخیھا بالید

نہ وہ طاقت رکھتی ہیں اور نہ ہی کوئی حیلہ کرسکتی ہیں سوائے اس بات کے کہ ہاتھ کے ساتھ اپنے بھائی سے پر دہ کریں۔

سیر اعلام النبلاء 408/8.
:)

Monday, April 6, 2015

شرح حدیث نجد اور تاریخ نجد و حجاز

حدیثِ نجد
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم نے دعا فرمائی: اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمیں ہمارے یمن میں برکت عطا فرما، (بعض)لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!ہمارے نجد میں بھی؟ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے (پھر) دعا فرمائی: اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے شام میں برکت عطا فرما۔ اے اللہ!  ہمارے لئے یمن میں برکت عطا فرما۔ (بعض) لوگوں نے (پھر ) عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے نجد میں بھی، میرا خیال ہے کہ  آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے تیسری مرتبہ فرمایا: وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور شیطان کا سینگ  (فتنہ وہابیّت و نجدیّت) وہیں سے نکلے گا۔
صحیح بخاری 2598/6، حدیث 6681۔
اس حدیث میں تین متعین خطوں کے نام لئے گئے ہیں لیکن کچھ احباب شام اور یمن کو تو علاقائی طورپر لیتے ہیں لیکن جب نجد کی باری آتی ہے تو یہ احباب نجد کے لغوی معنی نکال لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نجد ریاض مراد نہیں بلکہ ابھری ہوئی زمین مراد ہے، اور عرب میں بارہ نجد ہیں۔ حالانکہ حدیث کا لب و لباب واضع ہے کہ تین متعین خطے ہیں۔ جب ہم دو خطوں کے لغوی معنی اخذ نہیں کرتے ہیں تو پھر ہم تیسرے خطے کا لغوی معنی کیونکر اخذ کرسکتے ہیں؟. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں جو خطہ نجد کے نام سے مشہور تھا دراصل وہی نجد کا خطہ اس حدیث میں مراد ہے.
اس حدیث سے متعلق آئمہ کرام نے جو شرح بیان کی ہے وہ درج ذیل کتاب میں درج ہے۔

شرح حدیث نجد کا ڈاؤن لوڈنگ لنک

Thursday, April 2, 2015

نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشگوئياں

نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشگوئیاں 

 خون جگر بنوشم بارنج باتو گویم 

 اپناخون جگر پیتے ہوئے اور انتہائی رنج و افسوس سے کہتا ہوں کہ خدارا حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرو گوشہ نشینی چھوڑ 
دو۔

 دو حصص چوں ہند گرد خون آدم شد
رواں شورش و فتنہ فزون از گماں پیدا شد

 چونکہ ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہوجائیگا ااس لئے انسانوں کا خون جاری ہوگا ، شورش و فتنہ وہم و گماں سے بھی زیادہ ہوگا۔

 لا مکاں باشند قہر ہندواں مومن بسے غیرت و ناموس مسلم رازیاں پیدا شد 

 اکثر مسلمان ہندوؤں کے غیض و غضب سے بےگھر ہوجائيں گےیعنی مہاجر ہو جائيں گےاور مسلمانوں کی ناموس و غیرت نقصان ظاہر ہوگا یعنی مسلمانوں کی عورتیں اور لڑکیاں چھن جائینگی۔

 مسلم شوند کشتہ افتان شوند و خیزاں از دست نیزہ بنداں یک قوم ہندوانہ 

 مسلمان مارے جائیں گے اور تباہ و برباد ہو کر
 بھاگيں گے ہندوؤں کی ایک نیزہ بند قوم ان پر حملہ آور ہوگی۔

 ارزاں شود برابر جائیداد و جاں مسلم خوں می شود روانہ چو بحر بیکرانہ

 مسلمان کی جان اور جائیداد برابر کی سستی ہوجائیگی اور انکے خون کے دریا بہنے لگیں گے۔

 از قلب پنج آبی خارج شوند ناری قبضہ کنند مسلم بر ملک غاصبانہ

 پنجاب کے قلب سے جہنمی کافر خارج ہو جائيں گے اور ان کی جائيداد پر مسلم قبضہ کر لیں گے۔ (قیام پاکستان کے وقت پاکستان سے سکھ اور ہندو پاکستانی پنجاب سے چلے گئے تھے)

 برعکس ایں برآید درشہر مسلماناں قبضہ کنند
 ہندو ہر شہر جابرانہ

 اسکے برعکس مسلمانوں کے شہر میں یہی واقعہ رونما ہوگا اور ہندو ہر شہر پر قبضہ کر لیں گے۔
 (71 میں مکتی باہنی نے بنگلہ دیش میں ایسا ہی کیا) 

 ناگاہ مومناں راشور پدید آید با کافراں نمایند جنگے چوں رستمانہ

 اچانک مسلمانوں کو ایک ظاہر شور سنائی دیگا، کافروں کے ساتھ دلیرانہ جنگ لڑیں گے۔ 

 لشکر منگول آید از شمال بہرعون فارس و عثمان ہمچارہ گراں پیدا شود

 منگول لشکر شمال سے آئیگا مدد کے لئیے ایران اور ترکی والے بھی مددگار ثابت ہونگے،ہمسایہ ملک خصوصا افغانستان، ایران اور ترکی مددگار ثابت ہونگے،.

 مومنان میر خود را از سفیہ تنزیل سازند بر مسلماں بیاید تذلیل خاسرانہ

 مسلمان اپنے صدر کو صدارت سے اتار دینگے اسکے بعد مسلمانوں کو خسارے والی ذلت آئےگي۔
 (جنرل ایوب کا استعفی پھر 71 کی جنگ میں خسارہ)

 شہر عظیم باشد اعظم ترین مقتل صد کربلا چو ں کربل ہر جا بخانہ خانہ

 مسلمانوں کا سب سے بڑا شہر سب سے بڑی مقتل گاہ بن جائے گا تباہی و بربادی ایسی ہوگی کہ گھر گھر کربلا بن جائیگا۔

 (ڈھاکہ میں 1971 میں مکتی باہنی کا قتل عام کیا )

 رہبر نر مسلماناں در پردہ پیارآناں امداد دادہ باشد از عہد فاجرانہ 

 مسلمانوں کے رہنما درپردہ مسلمانوں کے دشمنوں کے دوست ہوں گے اپنے گناہگارانہ وعدوں کے مطابق کافروں کو مدد پہنچائيں گے۔ (67 میں مجیب الرّحمان نے اگرتلہ میں سازش تیار کی اور71 میں اس سازش کو عملی جامہ پہنایا، اندرا گاندھی اور شیخ مجیب الرحمن)

 از اہل حق نہ بینی در آنزماں کسے را دوزوان و راہز نے رابر سر نہند عمامہ

 تو اس وقت کسی کو اہل حق نہیں دیکھے گا، چور اور ڈاکووؤں کے سر پر دستار رکھیں گے۔  

کذب و ریا و غیبت و فسق وفجور بیحد قتل و زنی و اغلام ہرجا شوند عیانہ 

 جھوٹ اور ریاکاری غیبت و فسق و فجور کی زیادتی ہوگی۔ قتل زنا اور اغلام بازی جگہ جگہ ظاہر ہونگی۔ (جھوٹ ریاکاری ، غیبت و فسق و فجور عام ہوگیا ہے، اب تو زنا اور اغلام بازی یعنی لڑکے لڑکوں کے ساتھ زنا کرتے ہیں عورتوں کو چھوڑ کر) 

 رسم و رواج ترسا ، رائج شودبہ ہرجا بدعت رواج گردو سنّت غائبانہ

 عیسائيوں جیسے رسم و رواج ہر جگہ رائج ہوگا، بدعت عام ہوگی اور سنّت غائب ہوگی۔ (اب تو لوگ کرسمس، اپریل فول اور ویلنٹائن ڈے بڑے شوق سے مناتے ہیں حتی کہ بعض علماء بھی ایسا کرنے لگے ہیں جس سے لوگ غلط راہ پا رہے ہیں۔) 

 روزہ، نماز، طاعت یکدم شوند غائب در حلقہء مناجات تسبیح از ریاکارانہ 

 روزہ، نماز حکم برداری یک لخت غائب ہو جائیگی, جبکہ مناجات کی جائینگی ریاکاری دکھاوے کے لیے.

 در مومناں نزاری درجنگ قاضی آرے چوں سگ پئے شکاری گرد دبسے بہانا

 مومنوں کا ایمان کمزور ہوجائیگا اور انصاف کا ساتھ دینے والے مسلمان جنگ میں تنہا ہونگے ، کافر انہیں کثرت سے ایسے فریب دینگے جیسے کتے کو شکار سکھانے کے لئے دیا جاتا ہے

ردد بنو سلیماں باشند چو فضل رحمان یعنی کہ قوم افغاں باشد صد علانہ

 بنو سلیمان یعنی قوم افغان اللہ تعالی کے خاص فضل و کرم سے باعزت قوموں کی طرح کھڑے ہونگے اور سو گنا بہادری سے لڑیں گے۔ (افغانوں نے پہلے روس کو عبرتناک شکست دی اور اب امریکہ اور یورپ کو شکست کے قریب لاچکے ہیں)

 چوں شود درد دور آنہا جورو بدعت را رواج شاہ غربی بہر دفعش خوش عناں پیدا شود

 جب ظلم و بدعت کو رواج ہو جائیگاغرب
 (موجودہ پاکستان)کا بادشاہ ان کو دفع کرنے کے لئے حکومت کی اچھی بھاگ ڈور سنبھالنے والا ظاہر ہوگا۔ 
 (آج پاکستان میں ظلم و ستم اپنے عروج پر ہے اور طرح طرح کی بدعات بھی عام ہیں، شائد وہ حکمران آنیوالا ہے اب) 

 بر مومناں غربی شد فضل حق ہویدا آید بدست ایشاں مردان کاردانہ

 مغربی پاکستان کے مسلمانوں پر ذات باری تعالی کا فضل ظاہر ہوگااور انکے ہاتھ کام چلانے والے ظاہر ہونگے۔ 

 قاتل کفار خواہد شدشہ شیر علی حامئی دین محمد پاسباں پیداشود 

 حضرت علی کے شیروں میں سے ایک شیر کافروں کو قتل کرنے والا ظاہر ہوگا ۔ سرکار دو عالم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے دین کی حمایت کرنے والا ہوگا اور ملک کا پاسبان ظاہر ہوگا

بہر صیانت خود از سمت کج شمالی آید برائے فتح امداد غائبانہ

 اپنی امداد کے لئے شمال مشرق سے فتح حاصل کرنے کے لئے غائبانہ امداد آئے گی۔ 

 عثمان و عرب فارس ہم مومناں اوسط ازجذبہ ء اعانت آیند والہانہ ترکی والے، 

عرب والے اور ایران والے امداد کے جذبہ سے دیوانہ وار آئينگے۔

 اعراب نیز آیند از کوہ و دشت وہاموں سیلاب آتشیں شد از

 ہر طرف روانہ پہاڑوں اور جنگلوں سے اعراب بھی آئيں گے ۔ آگ والا سیلاب چاروں طرف رواں ہوگا۔

 ناگاں مومناں راشورے پدید آید باکافراں نمائیند جنگے چو رستمانہ

 اچانک مومنوں کے خلاف واضح جھوٹ پر مبنی شور (تعن وتشنیع) آشکار ہوگا اور مسلمان ان کافروں کے خلاف دلیری اور شجاعت سے جنگ کریں گے۔ 

 چترال، نانگاپربت باسین ملک گلگت پس ملک ہائے تبت گیرند جنگ آنہ

 چترال نانگا پربت چين کے ساتھ گلگت کا علاقہ مل کر تبت کا علاقہ میدان جنگ بنے گا۔ 

بعد آں شود چو شورش در ملک ہند پیدا غازی نمائیند آندم یک عزم غازیانہ

 اس کے بعد ملک ہند (بھارت) میں ایک شورش پیدا ہوگی اور غازیان اسلام اعلان جہاد کرکے اولوالعزمی کے ساتھ برسر پیکار ہونگے

زگ شش حروفی بقال کینہ پرور مسلم شود  بخاطر از لطیف آں یگانہ

 اللہ کے کرم سے ایک کینہ پرور ہندوبنیا جس کا نام "گ" سے شروع ہوتا ہے اور چھ حروف پر مشتمل ہے مسلمان ہوجائیگا۔

 یکجا شوند عثمان ہم چینیاں و ایران فتح کنند ایناں کل ہند غازیانہ

 ترکی والے چين والے اور ایرانی اکٹھے ہو جائیں گے یہ سب تمام ہندوستان کو غازیانہ فتح کریں گے۔

 یک جا شوند افغان ہم دکنیاں و ایراں فتح کنند اینہا کل ہند غازیانہ 

 افغانستان، پاکستان اور ایران کے مجاہدین یک جان ہو جائيں گے اور ملکر تمام ہندوستان کو غازیانہ فتح کرینگے۔

 غلبہ کنند ہمچوں مور ملخ شباشب حقا کہ قوم مسلم گردند فاتحانہ 

 چیونٹیوں اور مکڑیوں کی طرح راتوں رات غلبہ حاصل کرلیں گے میں قسم کھاتا ہوں حق تعالی کی کہ مسلمان قوم فاتح ہوگی 

 ایں غزوہ تابہ شش سال ماند بہ دہرا پیدا بس مرد ماں بہ میرند ہرجا ازیں بہانہ

 یہ غزوہ چھ سال تک انسانیت کے لئے بدقسمتی کی گہری تاریک غار کی طرح ہوگا تو جان لے کہ اس وقت اللہ کی راہ میں لڑنے والے ہر جگہ جام شہادت نوش کرنے کے لئے موقع تلاش کرینگے۔

 کابل خروج ساز دور قتل اہل کفار کفار چپ 
و راست سازند بسے بہانہ

 اہل کابل کافروں کے قتل کے لئے نکل آئيں گے، کافرین دائیں بائيں بہانہ سازی کرینگے۔

 از غازیان سرحد لرزد زمین چو مرقد بہر حصول مقصد آیند والہانہ

 سرحدی غازیوں سے زمین مرقد کی طرح لرزے گی ۔ مقصد کو حاصل کرنے کے لئے دیوانہ وار آئیں گے۔

 بعد از فریضہ حج پیش از نماز فطرہ از دست رفتہ گیرند از ضبط غاصبانہ

 یہ واقعہ بڑی عید کے بعد اور چھوٹی عید الفطر کی نماز سے پہلے ہوگا ، ہاتھ سے گئے ہوئے علاقے کو فتح کر لیں گے۔

 رود اٹک بہ سہ باراز خون اہل کفار پر مے شود بہ یکبار جریان جارحانہ

 دریائے اٹک کافروں کے خون سے تین مرتبہ یک بار بھر کے جاری ہوگا۔ 

 کشتہ شوند جملہ بدخواہ دین و ایمان کل ہند  پاک باشد از رسم ہندوانہ

 دین اور ایمان کے بدخواہ لوگ مارے جائيں گے۔ تمام ہندوستان ہندو گورنمنٹ سے پاک ہوجائيگا۔(یعنی پاکستان ہندوستان پر قبضہ کرلے گا)

 پنجاب ،شہر لاہور کشمیر ملک منصور دوآب ، شہر بجنور گيرند غالبانہ 

 پنجاب شہر لاہور ملک کشمیر ، نصرت شدہ گنگا اور جمنا شاہر بجنور پر مسلمان غاصبانہ قبضہ کر لیں گے۔ (اس سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب پر جنگ کے دوران انڈیا قبضہ کرلے گا اور اٹک تک جائيگا جہاں سے انڈیا کی بربادی شروع ہوگی) 

 فتح یابدشاہ غربستان بزور تیر و تیغ قوم کافر را شکست بیگماں پیدا شود غربستان

 (یعنی پاکستان) کا بادشاہ ہتھیاروں اور اسلحہ کے زور پر فتح حاصل کریگا۔ اور کافر قوم کو ایسی شکست ہوگی جو وہم و گمان سے بھی باہر ہوگی۔

 تاچھل سال ای برادر من دورآن شہر یارمی یبنم

 اے پیارے بھائي چالیس سال تک اس بادشاہ کا عہد و اقتدار میں دیکھ رہا ہوں۔

 غلبتہ الاسلام باشد تا چہل در ملک ہند بعد از دجال ہم از اصفہان پیدا شود 

 اسلام کا غلبہ چالیس سال تک ہندوستان کے ملک پر رہے گا اسکے بعد دجال(کافر) اصفہان شہر سے ظاہر ہوگا۔ 

 از برائے دفع آں دجال من گوئم شنو عیسی آید مہدی آخری زماں پیدا شود

 میں جو کہہ رہا ہوں غور سے سنو اس دجال کے فتنے کو مٹانے کے لئے حضرت عیسی علیہ السّلام اور مہدی آخری الزّماں ظاہر ہونگے۔

 خاموش باش نعمت اسرار حق مکن فاش در سال کنزا باشد چنیں بیانہ اے نعمت اللہ شاہ!

 خاموش ہو جا رب کے رازوں کو ظاہر نہ کر۔ پانچ سو اڑتالیس ہجری میں میں واقعات بیان کر رہا ہوں۔

 ایک روایت کے مطابق سندھ کی بربادی ہند کی وجہ سے اور ہند کی بربادی چین کی وجہ سے ہوگی۔ اور نعمت اللہ شاہ ولی رحیم اللہ کے مطابق چین بھی اس جنگ میں پاکستان کا ساتھ دیگا

اس کتاب کو آپ پی ڈی ایف میں اس لنک سے ڈاؤن لوڈ بھی کرسکتے ہیں<